
لندن5ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایسالگتاہے کہ کھیل کے سخت قوانین کھلاڑیوں کومشینوں میں بدل رہے ہیں۔ نہ کھلاڑی کہہ سکتا ہے اور نہ کچھ کر سکتا ہے۔ اوریہی وجہ ہے کہ اب کے ایل راہل کی جیب بھی کٹ گئی ہے۔ اور میچ ریفری نے کینگٹن اوول میں کھیلے جانے والے چوتھے ٹیسٹ کے تیسرے دن ایک واقعے پرجرمانہ کیاہے۔راہل پرامپائرکے فیصلے سے اختلاف ظاہر کرنے پرجرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
یہ واقعہ ہفتہ کو ہندوستانی اننگ کے 34 ویں اوور میں پیش آیا جب وہ ڈی آر ایس کے جائزے کے بعد آؤٹ ہوگئے۔ اس طرح انھوں نے آئی سی سی( International-Cricket-Council) کے ضابطہ اخلاق کے لیول ون کی خلاف ورزی کی۔ راہل نے 101 گیندوں پر 46 رنز بنائے تھے۔ فیصلے کے بعد راہل نے فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا۔آئی سی سی کی ریلیزکے مطابق راہل کھلاڑیوں اور سپورٹ اسٹاف کے لیے آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2.8 کی خلاف ورزی کا مرتکب پایاگیاجوکہ ایک بین الاقوامی میچ میں امپائرز کے فیصلے سے اختلاف ظاہر کرنے سے متعلق ہے۔
راہل کا نظم و ضبط بھی ریکارڈ میں شامل کیا گیا ، جس کی 24 ماہ میں پہلی خلاف ورزی ہوئی ہے اور آئی سی سی ایلیٹ پینل آف میچ ریفریز کے کرس براڈ کی جانب سے تجویز کردہ جرمانہ قبول کر لیا ہے۔ اس لیے سرکاری سماعت کی ضرورت نہیں تھی۔



