نئی دہلی7ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پی ڈی پی لیڈرمحبوبہ مفتی نے الزام لگایا ہے کہ انہیں گھر میں نظربند رکھا گیا ہے اور کشمیر میں حالات معمول کے مطابق ہونے کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ انتظامیہ نے انہیں گھر میں نظر بند رکھا ہے۔ مفتی نے کہا کہ ہندوستانی حکومت افغان شہریوں کے حقوق کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتی ہے لیکن جان بوجھ کر کشمیریوں کے ایسے حقوق کو نظر انداز کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے انہیں یہ کہتے ہوئے گھر سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی کہ وادی میں سب کچھ معمول کے مطابق نہیں ہے۔
یہ حالات معمول کے مطابق ہونے کے دعوے کو بے نقاب کرتا ہے۔محبوبہ مفتی کے الزامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب وادی کشمیر میں سکیورٹی کی صورتحال کے حوالے سے تمام پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ یہ پابندیاں بدھ کو سید علی شاہ گیلانی کی وفات کے بعد نافذ کی گئی ہیں۔مفتی نے اپنے گھر کے بند دروازے کی ایک تصویر ٹویٹ کی ، جس میں ایک مسلح گاڑی ان کے گھر کے قریب کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔
GOI expresses concern for the rights of Afghan people but wilfully denies the same to Kashmiris. Ive been placed under house arrest today because according to admin the situation is far from normal in Kashmir. This exposes their fake claims of normalcy. pic.twitter.com/m6sR9vEj3S
— Mehbooba Mufti (@MehboobaMufti) September 7, 2021
پولیس کا کہنا ہے کہ پی ڈی پی لیڈر سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ سکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر آج کلگام کا دورہ نہ کریں۔ ایک سینئر پولیس افسر نے کہا کہ مفتی کی زیڈ پلس سیکورٹی ہے ، ان کی سیکورٹی کے لیے بہت سارے انتظامات کرنے پڑتے ہیں۔ اس لیے ان سے کہا گیا ہے کہ وہ کلگام نہ جائیں۔ انہیں گھر میں نظربند نہیں کیا گیا ہے۔مفتی نے یہ الزام جموں و کشمیر پولیس کے اس بیان کے بعد لگایا کہ بیشتر پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے اور علاقے میں انٹرنیٹ خدمات بحال کردی گئی ہیں۔ کیونکہ سید علی شاہ گیلانی کی موت کے بعد کشمیر میں پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔



