قومی خبریں

 افغانستان پر فاروق عبداللہ کا بیان ، کہا طالبان اسلامی اصولوں پر اچھی حکومت چلائیں گے

سرینگر، 8 ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام پر فاروق عبداللہ کا متنازعہ بیان منظر عام پر آیا ہے۔ فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ طالبان اسلامی اصولوں کی بنیاد پر حکومت کو اچھی طرح چلائیں گے۔ بڑی بات یہ ہے کہ سیکولر #ممالک کے لیڈر #فاروق عبداللہ اسلامی اصولوں کی حکومت کی طرفداری کررہے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس (این سی) کے صدر اور لوک سبھا کے رکن ڈاکٹر فاروق #عبداللہ نے کہا کہ افغانستان ایک علیحدہ ملک ہے، انہیں اب ملک کو سنبھالنا ہے، مجھے امید ہے کہ وہ سب کے ساتھ انصاف کریں گے اور ایک اچھی حکومت ہوگی۔
#اسلامی #اصولوں پر اچھی حکومت چلے گی،انہیں ہر ملک کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔طالبان نے منگل کو اعلان کیا کہ ملا محمد حسن آخوند افغانستان کی نئی حکومت کے سربراہ ہوں گے۔ یہ فیصلہ دارالحکومت کابل سمیت افغانستان کے بیشتر علاقوں پر اسلام پسند گروہ کے قبضے کے دو ہفتے بعد آیا ہے۔
آخوند اس وقت رہبری شوریٰ یا لیڈر شپ کونسل کے سربراہ ہیں، جو طالبان کی فیصلہ سازی کا طاقتور ادارہ ہے۔ ان کا تعلق #قندھار سے ہے جو #طالبان کی جائے پیدائش ہیں اور مسلح تحریک کے بانیوں میں سے ہیں۔
طالبانی لیڈر حکومت کی شبیہ بدلیں تومثالی سرکارہوگی محبوبہ مفتی کابیان،مدینہ کے طرزکی ریاست دنیاکے لیے آئیڈیل ہوسکتی ہے

mahbooba-mufti

افغانستان کی حکومت کے قیام کے بعدمحبوبہ مفتی نے بھی طالبان کی حکومت پربیان دیاہے۔ جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کولگام میں کہاہے کہ طالبان ایک حقیقت کے طور پر سامنے آرہے ہیں۔ اگر وہ اپنی شبیہ بدلتے ہیں تووہ دنیا کے لیے مثال بن سکتے ہیں۔

اس بار وہ آئے ہیں اور #افغانستان میں حکومت کرناچاہتے ہیں ، باقی وہی ہے جو اصل شریعت کہتی ہے جو کہ ہمارے #قرآن شریف میں ہے۔جو بچوں اور عورتوں کے حقوق ہیں۔ ہمیں کیسے حکومت کرنی چاہیے جو ہمارے #مدینہ کا نمونہ رہا ہے۔ لہٰذااگر وہ واقعی اس پر عمل درآمد کرنا چاہتے ہیں تو وہ دنیا کے لیے مثال بن سکتے ہیں۔ اگر وہ اسے نافذ کریں گے تو صرف دنیا کے ممالک ان کے ساتھ کاروبار کر سکتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ خدا نخواستہ، اگر وہ گزشتہ برسوں والااپناکوئی ایک طریقہ اپنائیں تو یہ نہ صرف پوری دنیا بلکہ افغانستان کے لوگوں کے لیے بھی مشکل ہو جائے گا۔ مسرت عالم کوحریت کا سربراہ بنانے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ان کا آپس میں مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ ، انہوں نے کہاہے کہ مرکزیہاں سے باہر سے لوگوں کو لاتا ہے ، لیکن ہمیں یہاں بند رکھا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button