
انتہاپسند ہندو مہا سبھا کی شرانگیزی: بابائے قوم گاندھی کے قتل میں ملوث نارائن آپٹے کا مجسمہ تیار
گوالیار ، 12ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ہندو مہاسبھا جلد ہی بابائے قوم مہاتما #گاندھی کے قاتل اور #گوڈسے کے ساتھی نارائن آپٹے کا مجسمہ نصب کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ مجسمہ #گوالیار میں مکمل ہو چکا ہے اور میرٹھ (اتر پردیش) بھیج دیا گیا ہے۔ یہ اگلے مہینے میرٹھ میں نصب کیا جائے گا۔آپٹے کو ناتھورام گوڈسے کے ساتھ بابائے قوم #گاندھی کے #قتل کے جرم میں #سزائے #موت سنائی گئی تھی۔
ہندو مہا سبھا ماضی میں گوالیار میں گوڈسے کا مندر اور گیان شالا قائم کر کے تنازعات میں رہی ہے۔ میرٹھ میں بھی اس کی بھنک لگ چکی ہے۔میرٹھ میں پولیس نے ہندو #مہاسبھا کی عمارت کو گھیر لیا ہے۔ اب کوئی نہیں جانتا کہ آپٹے کا مجسمہ کہاں ہے۔ گوالیار سے میرٹھ تک پولیس ہندو مہاسبھا کی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئی ہے۔
ہندو مہا سبھا ، جو ہمیشہ بابائے قوم کے قاتل ناتھو رام گوڈسے اور نارائن آپٹے کے تناظر میںموضوع بحث رہتی ہے ، نے حالیہ دنوں دولت گنج ہندو مہاسبھا عمارت میں ایک بڑی میٹنگ کی۔ ہندو مہاسبھا کے قومی نائب صدر ڈاکٹر جے ویر بھردواج نے حال ہی میں گوالیار میں منعقدہ تنظیم کے اجلاس میں بتایا کہ مجسمہ تیار ہے اور اسے صحیح وقت پر نصب کیا جائے گا۔ #اجلاس میں آپٹے کو شہید‘ بھی کہا گیا۔
اب تک ہندو مہاسبھا صرف بابائے قوم کے قاتل #نانتھورام گوڈسے کے مجسمہ کو لے کر بحث میں رہتی تھی ، لیکن اب نارائن آپٹے کے مجسمہ کے تعلق سے موضوع بحث بن گئی ہے۔خیال رہے کہ گوالیار میں تقریبا ً2 2 ماہ قبل نارائن آپٹے کا 2 فٹ اونچا مجسمہ بنانے کا کام شروع ہوا۔ تقریباً 45 ہزار روپے کی لاگت سے تیار اس مجسمہ کا کام 15 دن پہلے مکمل ہو چکا ہے۔
یہ مجسمہ اکتوبر کے مہینے میں میرٹھ میں اس کی تنصیب کے لیے یہاں سے بھیجا گیا ہے ،جبکہ مقامی انتظامیہ اور پولیس کو اس کے بارے میں بھنک تک نہیں ہے۔خیال رہے کہ نارائن دتاترے آپٹے بابائے قوم گاندھی کے قتل کے مرکزی ملزم نتھورام گوڈسے کا معاون تھا۔ اسے 15 نومبر 1949 کو انبالہ جیل میں گوڈسے کے ساتھ تختہ ٔ دار پر چڑھایا گیا ۔
نارائن آپٹے پونے کے سنسکرت داں خاندان کے رکن تھے۔ آپٹے نے بامبے یونیورسٹی سے سائنس میں بیچلر کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد بطور استاد کام کیا اور 1939 میں ہندو مہاسبھا میں شامل ہوئے۔ اس نے گوڈسے کے ساتھ مل کر ایک اخبار ’’ اگرنی ‘‘ بھی نکالا تھا۔
نارائن آپٹے 30 جنوری 1948 کو مہاتما گاندھی کے قتل کے وقت نتھورام گوڈسے کے ساتھ کھڑا تھا۔ بابائے قوم گاندھی کے قتل واقعہ میں قائم کی گئی خصوصی عدالت نے آپٹے کو 10 فروری 1949 کو گوڈسے کے ساتھ سزائے موت سنائی تھی۔
کل 9 ملزموں میں سے ونیاک دامودر ساورکر کو ثبوت کی عدم دستیابی پر بری کر دیا گیا اور باقی 6 کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ہندو مہاسبھا کے قومی نائب صدر جے ویر بھاردواج نے بتایا کہ ان کا مقصد پورے ملک کے نوجوانوں کو بابائے قومکے قاتلوں ناتھو رام گوڈسے اور نارائن آپٹے سے متعارف کروانا ہے۔ نوجوان نسل کو ان’ قاتلوں‘ کے خیالات کو سمجھنا چاہیے۔



