
ٹیم انڈیا کے بہترین بلے باز، گیند باز کے ساتھ زبردست فیلڈر : سید نذیر علی
سلام بن عثمان
ہندوستان میں کرکٹ کلب کی بنیاد 1792 میں ہوئی۔ اس درمیان کئی کرکٹ میچوں کا انعقاد ہوا۔ اس وقت ہندوستان کے کھلاڑیوں نے فرسٹ کلاس میچ میں اپنے بہترین کھیل کے ذریعے انگلینڈ کرکٹ بورڈ کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ 25 جون 1932 جب انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے ہندوستان کو بین الاقوامی سطح پر ٹیسٹ ٹیم کے درجہ سے نوازا۔
ہندوستان کو ٹیسٹ کرکٹ کا درجہ ملتے ہی ٹیم انڈیا کی تشکیل ہوئی۔ ٹیم میں بہترین کھلاڑیوں کو موقع ملا جس میں چار مسلم #کھلاڑیوں کو ٹیم انڈیا میں شامل کیا گیا۔ محمد نثار، سید وزیر علی،سید نذیر علی اور جہانگیر خان کو ٹیم انڈیا میں شامل کیا گیا۔
| اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں |
ایک طرف بڑے بھائی وزیر علی کے زبردست کھیل سے کرکٹ شائقین خوش تھے۔ دوسری طرف نذیر علی نے بھی کوئی کثر نہیں چھوڑی۔ انھوں نے بھی بہترین بلے بازی اور گیند بازی کے ساتھ میدان کے چاروں طرف بہترین فیلڈنگ کا مظاہرہ کیا۔ نذیر علی 8 جون 1906 کو پنجاب کے جالندھر میں پیدا ہوئے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کی کرکٹ کا شوق گھر سے ہی ہوا۔
بڑے بھائی بہترین کرکٹر تھے۔ نذیر علی نے بھائی کو دیکھتے ہوئے خود کو بھی کرکٹ سے منسلک کیا اور میدان میں اپنا بہترین کھیل پیش کیا۔ کرکٹ میں اپنی شناخت بنائی۔نذیر علی دائیں ہاتھ کے بہترین بلے باز کے علاوہ دائیں ہاتھ کے میڈیم تیز گیند باز بھی تھے۔ نذیر علی میں دمدار اسٹروک کھیلنے کی صلاحیت تھی۔ نذیر علی پوری طاقت کے ساتھ بلے بازی کرتے اور میدان کے چاروں طرف بلہ گھمانے میں ماہر تھے۔
اس کے علاوہ میدان کے چاروں طرف بہترین فیلڈنگ کا بھی ہنر ان کے ہی پاس تھا۔ 27-1926 کو جب ملبورن کرکٹ کلب کی ٹیم ہندوستان کے دورہ پر آئی۔ اس وقت ملبورن کرکٹ کلب کے کپتان آرتھر گیلگن نے سید نذیر علی کے کھیل کو دیکھا تو بہت متاثر ہوئے۔ انھوں نے نذیر علی کو مشورہ دیا کہ آپ سسیکس سے منسلک ہوجائیں۔
نذیر علی بہت ہی خوش قسمت تھے۔ نذیر علی اس وقت کے مہاراجہ پٹیالہ ٹیم کے اہم کھلاڑیوں میں ان کا شمار تھا۔ پٹیالہ کے مہاراجہ نے نذیر علی کو #انجینئر کی تعلیم کے لئے انگلینڈ بھیجا۔ نذیر علی اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ سسیکس ٹیم میں بہترین کھیل کی وجہ سے ٹیم میں شناخت بنائی اور ٹیم میں شامل کر لیے گئے۔ نذیر علی اپنی تعلیم مکمل کرنے کے چار سال بعد ہندوستان آئے۔
ہندوستان آنے کے بعد اپنے کرکٹ #کرئیر کو پھر ایک مرتبہ شروع کیا۔ ان کے بہترین کھیل کی وجہ سے پہلی مرتبہ انگلینڈ کے دورہ پر جانے والی ٹیم انڈیا میں شامل کیا گیا۔1932 کو جب ٹیم انڈیا کا انتخاب ہوا تو محمد نثار، سید وزیر علی اور سید نذیر علی کا بھی انتخاب ہوا۔ نذیر علی اپنا پہلا ٹیسٹ میچ 25 جون 1933 کو #انگلینڈ کے خلاف کھیلتے ہوئے 13 رنز بنائے اور دوسرے اننگ میں فلینڈنگ کے دوران زخمی ہونے کی وجہ سے چھ رنز بنائے۔
زخمی ہونے سے پہلے گیند بازی کرتے ہوئے چار وکٹ بھی لیے۔ انگلینڈ دورہ کے وقت فرسٹ کلاس کرکٹ میچوں میں نذیر علی نے 1020 رنز بنائے اور 23 وکٹیں لیں۔ یارک شائر کے خلاف بہترین کھیل پیش کیا۔ سسیکس کی پوری #ٹیم صرف 66 رنز پر ہی آؤٹ ہوگئی جس میں نذیر علی نے بہترین 52 #رنز بنائے تھے۔ جس میں پانچ چوکے اور تین سکسکر شامل تھے۔ کسی بھی کھلاڑی نے 3 رنز سے زیادہ نہیں بنایا تھا۔
34-1933 میں نذیر علی نے انگلینڈ ہی کے خلاف اپنا آخری ٹیسٹ میچ کھیلا۔ نذیر علی کے بہترین آل راؤنڈر کھیل کو نظر انداز کیا گیا۔ ٹیم انڈیا میں سی کے نائیڈو اور امرسنگھ پر فخر کرنے والی ٹیم انڈیا میں نذیر علی کو جگہ نہیں ملی۔ نذیر علی ایک بہترین زبردست اسٹروک والے بلے باز کے ساتھ میڈیم تیز گیند باز کے علاوہ بہترین فیلڈنگ میں شمار تھا۔ سید نذیر علی نے اپنے کرکٹ کرئیر میں مہاراجہ پٹیالہ کی ٹیم، مسلم ٹیم، ساؤتھ پنجاب اور سسیکس کی جانب سے کرکٹ کھیلا۔
سید وزیر علی نے دو ٹیسٹ #میچ میں 30 رنز بنائے جس میں بہترین 13 رنز ہے۔ 138 #گیند میں 4 #وکٹ۔ بہترین گیند بازی 83 رنز دے کر چار وکٹ۔75 فرسٹ کلاس میچوں میں 3440 رنز کے ساتھ 7 سنچریاں اور 15 نصف #سنچریاں شامل ہیں۔ گیند بازی میں 158 وکٹیں جس میں چھ مرتبہ پانچ وکٹ لینے کا اعزاز حاصل ہے۔ بہترین گیند بازی 93 رنز دے کر سات وکٹیں۔ 48 کیچ بھی شامل ہیں۔
1947 میں بٹوارے کے وقت نذیر علی پاکستان چلے گئے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی میں شامل کیے گئے۔ 18 فروری 1975 کو پاکستان کے لاہور شہر میں 68 سال کی عمر میں نذیر علی کا انتقال ہوا۔



