
نئی دہلی،19؍جنوری ( اردودنیانیوز ) آسٹریلیا کے خلاف بارڈر گاوسکر ٹیسٹ سیریز کے دوران بہت ساری چیزیں دیکھنے کو ملیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ ٹیم انڈیا کی بینچ اسٹرینتھ کما ل کی ہے ، جس نے اسٹار کھلاڑیوں کی عدم موجودگی میں ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ دوسری بات یہ کہ ہندوستانی ٹیم مکمل طور پر کپتان وراٹ کوہلی پر منحصر نہیں ہے اور تیسری بات یہ ہے کہ جیت کے لئے میدان پر جارحیت دکھانا ضروری نہیں ہے۔
رہانے کی طرح ٹھنڈے دماغی سے بھی کپتانی کرکے ایک مضبوط ٹیم کو اس کے گھر میں شکست دی جاسکتی ہے۔ اس ٹیسٹ سیریز کے دوران کئی کھلاڑیوں نے ڈیبو کیا جس میں محمد سراج، گل، واشنگٹن سندر ، نویدیپ سینی ، شاردل ٹھاکر اور ٹی نٹراجن جیسے کھلاڑی شامل ہیں۔ شاردال ٹھاکر کو بھی موقع ملا ،
لیکن انہوں نے اس ٹیسٹ سیریز سے قبل ایک ٹیسٹ میچ کھیلا تھا لیکن ان کے پاس زیادہ تجربہ نہیں تھا۔ زیادہ تجربہ نہ ہونے کے باوجود انہوں نے بیٹنگ اور بولنگ دونوں میں اپنے جوہر کا مظاہرہ کیا۔یہ ٹیسٹ سیریز جیتنے میں ہر کھلاڑی کا تعاون رہا ، لیکن ٹیم کے اوپنر بلے باز گل ، محمد سراج اور واشنگٹن سندر نے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ ہندوستانی ٹیم کو گل کی شکل میں ایک زبردست ٹیسٹ اوپنر ملا ہے ۔ایک سابق آسٹریلیائی کھلاڑی نے شبھمن گل کے بارے میں بھی کہا کہ وہ اگلے دس سال ہندوستان کی طرف سے کھیلیں گے ۔
اس ٹیسٹ سیریز میں گل کو موقع ملا جب پرتھوی شا پہلے ٹیسٹ میں ناکام ہوگئے تھے۔ دوسرے ٹیسٹ میں گل نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔گل کے علاوہ ٹیم انڈیا کو ٹیسٹ کا ایک بہترین آل راؤنڈر ملا ، جسے چوتھے ٹیسٹ میں رویندر جڈیجہ کی جگہ موقع دیا گیا۔ واشنگٹن بائیں ہاتھ کے بیٹسمین ہیں اور اسپن گیندبازی کرتے ہیں۔ انہوں نے چوتھے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں تین وکٹیں حاصل کیں ،
اس کے ساتھ ہی انہوں نے 62 رنز کی اننگز کھیل کر ہندوستانی ٹیم کو مشکل سے بچایا۔ پھر دوسری اننگز میں انہوں نے ایک وکٹ حاصل کی اور 22 رنز کی اننگز کھیلی اور جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ واشنگٹن بائیں ہاتھ کے بیٹسمین ہیں جو ٹیم کے لئے فائدہ مند ہے۔




