
بچوں کوتعلیم پرتوجہ رکھنی چاہیے سپریم کورٹ نے ا سکول کھولنے کی درخواست پرسماعت سے انکارکیا
نئی دہلی20ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے دہلی میں 12 ویں جماعت کے طلبہ کی جانب سے اسکول کھولنے کی درخواست پر سماعت سے انکار کردیا۔ عدالت نے کہاہے کہ وہ اس پالیسی معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ اس کے ساتھ عدالت نے تبصرہ کیا کہ طلبہ درخواستیں دائر کرنے کے بجائے پڑھائی پر توجہ دیں۔سماعت کے دوران جسٹس ڈی وائی چندرچوڑنے کہاہے کہ وہ ریاستوں کو جسمانی حاضری کے لیے اسکول دوبارہ کھولنے کا مکمل احکام نہیں دے سکتے۔
ہمیں نہیں معلوم کہ پرابلم کہاں ہے؟ کس ضلع میں کوویڈ کے سب سے زیادہ واقعات ہیں؟ یقینا ، بچوں کو اسکول واپس جانے کی ضرورت ہے لیکن اس کا فیصلہ ریاستوں کو کرنا ہے۔ جسٹس چندرچوڑ نے کہاہے کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو ہمیں ریاستوں پر چھوڑ دینا چاہیے۔ جسٹس چندرچوڑنے کہاہے کہ ہم اسے پبلسٹی اسٹنٹ نہیں کہہ رہے ہیں ، لیکن جس قسم کی ریلیف مانگی گئی ہے وہ غلط ہے۔
مختلف ریاستوں کے مختلف اصول ہیں۔ اسے تمام ریاستوں میں ایک جیسا نہیں بنایا جا سکتا۔ بچے کوایسی پٹیشن دائر نہیں کرنی چاہیے۔ حکومتیں اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ بچوں کو اسکول واپس جانے کی ضرورت ہے۔ کچھ ریاستوں نے پہلے ہی اسکول کھول رکھے ہیں۔



