
نئی دہلی ،20ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں آسمان چھو گئیں ۔ عام لوگ اور اپوزیشن اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ملک میں #تیل کی قیمت زیادہ ٹیکس کی وجہ سے ہے۔ ایسے میں اب عام لوگوں کو ایک اور دھچکا لگ سکتا ہے۔ برینٹ کروڈ پیر کو 75 ڈالر فی #بیرل کی سطح پر پہنچ گیا۔
یہ صارفین کے لیے تشویش کا باعث ہے کیونکہ اگر #خام تیل زیادہ مہنگا ہو گیا تو آنے والے دنوں میں تیل کی #قیمت میں 3 روپے تک کا اضافہ ہو سکتا ہے۔اس ہفتے خام تیل 75.34 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔ جبکہ ایک ماہ قبل یہ $ 69.03 پر تھا۔
اس طرح اس میں 9.1 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔کورونا کے نئے #کیسز میں کمی اور ویکسی نیشن کی بڑھتی ہوئی رفتار کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں دوبارہ کھل گئی ہیں۔ اس صورتحال میں تیل کی مانگ میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، جس کی وجہ سے خام تیل کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے۔سرکاری تیل کمپنیوں کی جانب سے آج پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
گزشتہ ہفتے پٹرول کی قیمت میں 13 سے 15 پیسے، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 14 سے 15 پیسے تخفیف کی گئی تھی۔ لیکن اب بھی بڑے بڑے شہروں میں پٹرول کی قیمت 100 روپے سے اوپر ہے۔ آج دہلی میں پٹرول کی قیمت 101.19 روپے ہے، جبکہ #ڈیزل کی قیمت 88.62 روپے فی لیٹر ہے۔ #ممبئی میں #پٹرول کی قیمت 107.26 روپے اور ڈیزل کی قیمت 96.19 روپے فی لیٹر ہے۔
کولکاتہ میں پٹرول کی قیمت 101.62 روپے ،جبکہ ڈیزل کی قیمت 91.71 روپے فی لیٹر ہے۔وہیں چنئی میں پٹرول 98.96 روپے لیٹر اور ڈیزل 93.26 روپے فی لیٹر ہے۔واضح ہو کہ جو لوگ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تخفیف کی توقع کر رہے تھے وہ مایوسی کے شکا ر ہوئے۔



