حاجی پور، 21ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) صوبہ بہار کے ویشالی ضلع کے مہنار میں پیش آئے معروف نابالغہ قتل کیس میں پولیس نے انکشاف کیا ہے۔ اس کیس میں ایک خاتون سمیت 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی پولیس نے ملزم کے گھر سے وہ گمچھا (گلے میں لپیٹنے والا کپڑا ، چسے گلوبند کہہ سکتے ہیں) بھی برآمد کرلیا ہے ، جس سے نابالغ لڑکی کو گلا دبا کر قتل کیا گیا تھا۔
سب سے بڑی بات جو سامنے آئی ، وہ یہ ہے کہ اس پورے معاملہ میں عصمت دری کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ ویشالی ایس پی منیش نے بتایا کہ اس کیس کے مرکزی ملزم دشرتھ مانجھی نے اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ مل کر کوچنگ کے لیے جارہی ایک نابالغ لڑکی کو اغواکرکے اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کی ، لیکن ناکام رہا۔اس ناکامی کے بعد طالبہ کا انہوں نے قتل کردیا۔
طالبہ کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کو قریبی علاقہ میں پانی میں پھینک دیا گیا۔ویشالی ایس پی نے بتایا کہ اس معاملے میں مرکزی ملزم دشرتھ مانجھی ، یدو رائے ، وکیل پاسوان ،گوتم کمار سہنی اور سلوا دیوی کو پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ ایس پی نے بتایا کہ عوام کے تعاون سے دشرتھ مانجھی کو مہنار تھانہ کے تحت عبداللہ چوک سے گرفتار کیا گیا۔ اس کی گرفتاری کے بعداس واقعہ کا انکشا ف ہوا ۔
انہوں نے بتایاکہ کلیدی ملزم دشرتھ مانجھی ہے ، اور اس نے اپنے تینوں ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس گھناؤنے عمل کو انجام دیا ہے ۔ جب کہ مقتولہ طالبہ کی سائیکل چھپانے میں سلوا دیوی نے کلیدی ملزم کا تعاون کیا تھا۔ اس بنا ء پر اسے بھی گرفتار کرلیا گیا ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ملزمان کی نشاندہی پر سائیکل ، اسکول بیگ سمیت تمام چیزیں برآمد کرلی گئی ہیں ۔
خیال رہے کہ اس واقعہ کے پیش نظر سڑکوں سے لے کر سوشل میڈیا تک احتجاج جاری تھا ،نیز یہ واقعہ سیاسی رنگ بھی لینے لگا تھا، اس واقعہ کے انکشاف کے بعد ویشالی پولیس نے راحت کی سانس لی ہے ۔



