
دہلی کینٹ ریپ؍قتل معاملے میں لڑکی کی موت دم گھٹنے سے ہوئی ملزم ہے فحش کاعادی : دہلی پولیس کی چارج شیٹ
نئی دہلی،22؍ ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی کینٹ میں 9 سالہ بچی کے ریپ اور قتل کے معاملے میں دہلی پولیس کی چارج شیٹ کے مطابق متاثرہ بچی کی دم گھٹنے سے موت ہوئی۔ اس سے قبل بھی ملزم پادری نے متاثرہ لڑکی کے ساتھ جنسی استحصال کیا تھا ۔ دہلی پولیس کے مطابق ریپ کے دوران ملزم رادھے شیام نے متاثرہ لڑکی کا منہ اپنے ہاتھ سے دبارکھاتھا ، جس کی وجہ سے متاثرہ لڑکی کو سانس لینے میں پریشانی ہوئی ۔
چارج شیٹ کے مطابق ملزم رادھے شیام فحش کا عادی تھا۔ ملزم رادھے شیام کے فون کی تفتیش میں پولیس کو پتہ چلا ہے کہ رادشھے شیام نے تقریبا 1300 فحش ویب سائٹس دیکھی تھی۔ پولیس کے سامنے ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اس سے قبل بھی اس نے لڑکی کو فحش دکھا کر ہراساں کرنے کی کوشش کی تھی۔ایف ایس ایل کے مطابق متاثرہ لڑکی کی موت کرنٹ لگنے سے نہیں ہوئی۔
پولیس نے اس پورے معاملے میں چار ملزمان رادھے شیام ، کلدیپ ، لکشم نارائن اور سلیم احمد کو چارج شیٹ کیا ہے۔ 2 اگست کو دہلی کینٹ کے علاقے میں عصمت دری ، قتل اور متاثرہ کی لاش کو زبردستی جلانے کا معاملہ سامنے آیا۔ پولیس کے مطابق- سی سی ٹی وی فوٹیج اور ملزم کا اعتراف ثابت کرتا ہے کہ ملزم نے پہلے بچی کے ساتھ عصمت دری کی اور جب لڑکی مر گئی تو اس کی لاش کو جلادیا۔
اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں
پولیس کے مطابق ملزم رادھے شیام نے ایک بیڈ شیٹ اور وہ فون بھی جلایا تھا جس پر وہ فحش فلمیں دیکھتا تھا۔ ملزم نے متاثرہ کی ماں کو بتایا کہ بچی کی موت کرنٹ لگنے سے ہوئی ، بچی واٹر کولر سے پانی بھرنے کے لیے شمشان گھاٹ آئی تھی۔ ملزم نے متاثرہ کی ماں کو دھمکی دی کہ اگر وہ پولیس کو بتائے گی تو لاش کا پوسٹ مارٹم کیا جائے گا ، جس میں لڑکی کے کئی حصے نکال لیے جاتے ہیں۔ پولیس نے 9 ستمبر کو چارج شیٹ داخل کی تھی۔ دہلی کمیشن برائے خواتین کی جانب سے دائر درخواست پر عدالت نے متاثرہ خاندان کو 2500000 لاکھ روپئے کی مالی امداد دینے کا بھی فیصلہ کیا تھا۔



