بین ریاستی خبریں

دلت لڑکا کے مندر پہنچ کر ’آشیرواد‘ لینے پر اعلیٰ برادری برہم،35 ہزار روپے جرمانہ

 دلت خاندان سے مندرکو’ پاک کرنے ‘کیلئے جرمانہ مانگنے کے الزام میں 5 افراد گرفتار

بنگلور ، 22ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)حکومت خواہ دلتوں کے تحفظ کے لیے کتنے ہی سخت قانون کیوں نہ بنالے ، لیکن سماج کے اعلیٰ برادری کے لوگوں پر اس کا اثر بالکل بھی نہیں پڑتا ، دلت کل بھی اچھوت تھا، شاید آئندہ بھی رہے ۔ اسی کڑی میں تازہ معاملہ کرناٹک کا ہے جہاں ایک دلت خاندان کا بچہ اپنی سالگرہ کے موقع پر مندر میں پوجا کرنے گیا تھا۔

اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں

جسے گاؤں والوں نے دیکھ لیا،پھر کیا تھا کہ دلت بچے کے آس پاس کے لوگوں کو ایک دلت بچے کا مندر جانا ناگوار گزرا اور اہل خانہ پر 35 ہزار روپے جرمانہ لگادیا۔ تفصیلات کے مطابق کرناٹک کے کوپل کے گاؤں میاپورہ میں ایک دلت فیملی کے چار سالہ بیٹے کو اس کی سالگرہ کے موقع پر مندر میں داخل ہونے پر 25 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔ اہل خانہ کو مندر کے احاطے کی صفائی کے لیے 10 ہزار روپے ادا کرنے کے لیے بھی کہا گیا ۔

دوسری طرف چنا داسر برادری کے افراد نے پولیس سے رجوع کرکے جرمانہ لینے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

 سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ٹی سریدھر نے بدھ کو کہا کہ ہم نے اس معاملے کے سلسلے میں پانچ لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ سریدھر نے کہا کہ دلت خاندان نے شکایت درج کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ چناداسارا برادری سے تعلق رکھنے والے چندر شیکھر 4 ستمبر کو اپنی سالگرہ کے موقع پر اپنے دو سالہ بیٹے کے لیے بھگوان ہنومان کا آشیرواد لینا چاہتا تھا۔ عہدیدار نے کہاکہ چندر شیکھر اور اس کے خاندان کے لوگ باہر کھڑے تھے لیکن بچہ مندر میں چلا گیا، جس سے مندر کے پجاری ناراض ہوئے اور اسے مسئلہ بنا دیا۔

کچھ اور اونچی ذات کے لوگوں نے پجاری کا ساتھ دیا اور 11 ستمبر کو ایک میٹنگ بلائی گئی جس میں اس نے مندر کے پاک کرنے کے اخراجات کے لیے 25 ہزار روپے مانگے۔ تاہم دیگر اونچی ذات کے دیہاتیوں نے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے اسے سخت قرار دیا۔اس واقعہ کی گاؤں میں بحث شروع ہوگئی اور یہ واقعہ پولیس کے علم میں آگیا۔ چندر شیکھر کا خاندان اعلیٰ ذات کے لوگوں کی ناراضگی کے خوف سے پولیس شکایت درج کروانے سے ڈرتا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button