
ایسا کون’ معبود‘ ہے، جو ایسے درندہ صف پجاری کی ’پوجا‘ قبول کر تا ہوگا!
کوچی؍نئی دہلی ،24ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) کیرالہ ہائی کورٹ نے ایک پجاری کو عصمت دری کے جرم میں عمر قید کی سزا سناتے ہوئے تلخ ترین تبصرہ کیا ۔ اپنے ریمارکس میں ہائی کورٹ نے کہاکہ:’ ہمیں تعجب ہوتا ہے کہ:’ ایسا کون سا معبودہے، جو ایسے پجاری کی پوجا ارچنا قبول کرتا ہوگاکہ جس پجاری نے بار بار ایک نابالغہ کے ساتھ اس کے بھائی بہن کے سامنے جنسی زیادتی کی ہو ‘‘۔ جسٹس کے ونود اور زیاد الرحمن اے اے کے بنچ نے منجیری کے رہائشی مدھو کو زیادہ سے زیادہ سزا دیتے ہوئے کہا کہ جب کوئی آدمی اپنی بیوی اور بچوں سے ترک تعلق کرلیتا ہے، تو وہ کسی گدھ کی طرح شکار کے گرد منڈلانے لگتا ہے ، حتیٰ کہ اس رو میں وہ لاوارت خواتین ؛بلکہ وہ بچوں کو بھی نہیں بخشتا ‘۔
عدالت نے یہ تبصرہ اس ملزم کی اپیل پر کیا ،جو نابالغ لڑکی سے زیادتی کا مجرم ٹھہرایا گیا تھا۔ عدالت نے کہا ہم حیران ہیں کہ ایسا کون سا معبود ہے ، جو ایسے پجاری کی پوجا ارچنا قبول کرتا ہوگا؟ جب کہ پجاری ہوس کی ایڑ لگا کر شکار کے ارد گرد منڈلاتاہو۔خیال رہے کہ ہائی کورٹ POCSO عدالت کے حکم کیخلاف سماعت کر رہی تھی۔عدالت نے کہا کہ لیکن ایک بار جب عصمت دری کا جرم ثابت ہو جاتا ہے، تو ملزم دفعہ 376 (1) کے تحت مجرم ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
متاثرہ کے ساتھ ملزم کے خصوصی تعلقات اور سرپرست کی حیثیت کو مدنظر ہمارا خیال ہے کہ اپیل کنندہ کو زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے۔استغاثہ کے مطابق شدید ذہنی مرض میں مبتلا ماں اور اس کے تین بچے پولیس کو یکم مارچ 2013 کو گھومتے ہوئے ملے تھے۔ پوچھ گچھ کے دوران بڑی لڑکی نے پولیس کے سامنے انکشاف کیا کہ جس شخص کے ساتھ اس کی ماں رہ رہی تھی ،وہ اسے ایک سال جنسی ا ستحصال کیا جا رہا تھا ۔
عدالت نے کہا کہ ملزم مندر کا پجاری نشے کی حالت میں گھر آتا تھا ، ماں اور بچوں کی پٹائی کرتا تھا اور بڑی لڑکی کو اس کے بہن بھائیوں کے سامنے جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا تھا۔ عدالت نے کہا کہ طبی معائنے سے جنسی زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے اور لڑکی کا بھائی بھی اس جرم کا گواہ ہے۔



