سپ جھار پولیس تشدد پر ریاستی وزیراعلیٰ کی صفائی :تشدد کے بعد بھی تجاوزات ہٹانے کی مہم جاری رہے گی: بسوا سرما
گوہاٹی ،24ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ریاستی وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے جمعرات کو آسام کے ضلع درنگ کے سپ جھار میں تجاوزات ہٹانے کے دوران تشدد ہونے پر ردعمل ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھاکہ اس واقعے میں 11 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اس معاملے میں جوڈیشل انکوائری کا حکم دیا ہے۔
وہیں اس سوال پر کہ آیا سپ جھار میں تجاوزات ہٹانے کی مہم اب بھی جاری رہے گی ؟ تو اس کے جواب میں سرما نے کہا کہ ہمیں اسے جاری رکھنا ہے۔
ہم بغیر بنیاد کے 30-40 ایکڑ اراضی نہیں دے سکتے ، باقی لوگ کہاں جائیں گے؟ لیکن اس سلسلے میں ایک بار پھر بات کروں گا۔آسام کے وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے میں پولیس کی ضرورت نہیں ،لیکن بات چیت سے بھی مدد ملتی ہے۔ریاستی وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس مہم کے لیے چار مہینے سے بات چیت جاری ہے۔
کانگریس کے ایک وفد نے اس سلسلے میں مجھ سے ملاقات کی اور ان لوگوں کو زمین الاٹ کرنے پر اتفاق کیا جن کے پاس زمین نہیں ہے۔ ہمیں 27 ہزار ایکڑ اراضی کا پیداواری استعمال کرنا ہے۔ بی جے پی سرکار کے وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ وہاں ایک مندر بھی تھا، اس پر بھی تجاوزات کرلیا گیا ۔ خیا ل رہے کہ اس ریاستی دہشت گردی کے خونی واقعہ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر منظر عام پر آئی ہے۔
اس ویڈیو میں ایک کیمرہ مین انسانیت کو شرمسار کرتے ہوئے اچھل اچھل کرجاں بحق شخص کی لاش کو لات مار رہا ہے۔ اس کے بارے میں وزیراعلیٰ سرما نے کہا کہ ہم اسکی تحقیقات کریں گے کہ کیمرہ مین موقع پر کیسے پہنچا اور اس نے کیوں ایسی غیر انسانی حرکت کی ۔ خیال رہے کہ اس بزدل فوٹو جرنلسٹ’ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ریاستی وزیراعلیٰ سرما نے کہا کہ آپ کسی ایک ویڈیو سے حکومت کو بدنام نہیں کر سکتے، وزیراعلیٰ کے دعویٰ کے مطابق یہ علاقہ 1983 سے قتل کے لیے بدنام ہے ،عام طور پر لوگ مندر کی زمین پر قبضہ نہیں کرتے۔
میں نے ہر جگہ تجاوزات دیکھے ہیں۔ پرامن تجاوزات مہم پر اتفاق کیا گیا ، لیکن کس نے لوگوں کو اکسایا؟ انہوں نے کہا کہ یہ مہم ایک فوری ضرورت ہے، اور اِسے صرف ایک رات میں مہم کی تکمیل نہیں کی جاسکتی ۔



