بین ریاستی خبریںجرائم و حادثات

زر اور زمین کی خونیں داستاں : اکلوتے بیٹے کی خاطر دو بھائیوں کے بچوں کے خون سے رنگا اپنا ہاتھ ، ۵؍کے قتل کا انکشاف

غازی آباد؍نئی دہلی ،24ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی سے متصل غازی آباد کے مراد نگر کے گاؤں بسنت پور سینتھلی کے ایک درندہ صفت کسان لیلو تیاگی نے 20 سالوں میں ایک ایک کرکے خاندان کے پانچ افراد قتل کرڈالے او ر اسے اس سفاکانہ عمل پر کوئی افسوس بھی نہیں ہوا ۔

چار کروڑ کی جائیداد کیلئے اس درندہ صفت چچا نے رشتوں کا خون اس قدر مہارت کیا کہ کسی کو اس کی بھنک بھی نہیں لگ سکی ۔اس نے تین کا قتل اپنے ہاتھوں سے کیا ، جبکہ دو لوگوں کا قتل سپاری دے کر کر ایا گیا۔

ڈیڑھ ماہ قبل 8 اگست کو ریٹائرڈ پولیس افسر سریندر تیاگی کو 4 لاکھ روپے دے کر کرائے گئے پانچویں قتل سے سلسلے وار طریقہ پانچوں قتل کے سنسنی خیز واقعہ کا انکشاف ہوا ہے ۔ لیلو ، سریندر اور سپاری کلر راہل کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ایس پی دیہات ڈاکٹر ایراج راجہ نے بتایا کہ لیلو نے بڑے بھائی سدھیر ، بھتیجے ریشو (فرزند برجیش) کو سپاری دے کر قتل کرایا، جبکہ بھتیجی پائل اور پارول ( سدھیرکی بیٹی) اور بھتیجے نشو (ولد برجیش) کاقتل اس نے خود کیا ہے۔ لیلو ، برجیش اور سدھیر کے پاس 16 بیگھہ زمین تھی۔

وہ سدھیر اور برجیش کے حصہ سے تقریباً چار کروڑ مالیت کی زمین پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔بھائی ، دو بھتیجوں اور دو بھتیجیوں کے قتل کے الزام میں گرفتار48 سالہ لیلو تیاگی نے تفتیش کے دوران پولیس کو بتایا کہ اس نے یہ جرم اپنے اکلوتے بیٹے کی خاطر کیا ہے، وہ چاہتا تھا کہ جائیداد تقسیم نہ ہو بلکہ پوری کی پوری جا ئیداد اس کے بیٹے کے حصہ میں آجائے ، اس کا کوئی وارث دنیا میں نہ ہو ۔بھائی برجیش کے دو بیٹے تھے اور سدھیر کی دو بیٹیاں تھیں، ان چاروں بچوں کا قتل کیا گیا۔ ان بچوں سے قبل سدھیر کی اس نے جان لی ۔

اب برجیش اس کے نشانے پر تھا، اس نے منصوبہ بھی تیار کرلیا تھا، اگر اپنے منصوبہ میں کامیاب ہوجا تا تو اس جائیداد کا کوئی دوسرا حصہ دار نہ ہوتا۔لیلو کی تفتیش کے حوالے سے پولیس نے بتایا کہ لیلو دو بھائیوں کی زمین پر قبضہ کرنا چاہتا تھا، اس نے پوری سازش 20 سال پہلے تیار کی تھی۔بڑے بھائی کے قتل کے بعد اس کی بیوی کو اپنے ساتھ رکھنا بھی اسی سازش کا حصہ تھا ، کیونکہ اس کی شادی نہیں ہوئی تھی۔

جب اس کے بھائی کی بیوی کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو اس نے سوچا کہ وہ ساری جائیداد اکلوتے بیٹے کو دے دے گا۔تفتیش کے دوران لیلوتیاگی نے پولیس کو بتایا کہ اسے اپنی حرکتوں پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ بلکہ وہ ہر قتل کے بعد خوش ہوتا تھا۔ اس نے بتایا کہ خاندان کے کسی فرد کو قتل کرنے کے بعد وہ اپنی دولت میں اضافہ محسوس کرتا تھا۔ لیلو کے منہ سے یہ سن کر پولیس بھی حیران رہ گئی۔پانچ رشتہ داروں کے قتل کو اس طرح اس نے انجام دیا ۔

تفصیلات کے مطابق 2001 میں بڑے بھائی سدھیر کو ایک لاکھ کی سپاری دے کر قتل کر ایا۔ قتل کے بعد بھائی کی لاش دریا برد کر دی گئی ۔ لیلو نے اس قتل کے سلسلے میں فرضی کہانی گڑھی کہ سدھیر خاندان کو غصے میں آکر چھوڑ دیا۔ لیلو کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ سدھیر کی بیوی انیتا اور دو بیٹی پائل اور پارول کو اپنے پاس رکھ لیا۔ 2006 میں انیتا کے میکہ میں ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پائل (8) کو کھانے میں زہر دے کر قتل کردیا گیا۔ سب کو بتایا گیا کہ اس کی موت زہریلے کیڑے کے کاٹنے سے ہوئی ہے۔پارول (15) کو 2009 میں قتل کیا گیا۔ پہلے یہ کہا کہ وہ زہریلے کیڑے کے کاٹنے سے مر گئی۔ جب لوگوں نے اس کی دلیل کو تسلیم نہیں کیا ، تو اس نے قبول کیا کہ پارول کے کئی لڑکوں کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں ، اس لیے اس نے آن کی خاطر اس کی جان لی۔

2013 میں بھائی برجیش کے بیٹے نشو (16) کا گلا دبا کر قتل کردیا گیا ، مقتول کی لاش ہنڈن میں پھینک دی گئی ،لوگوں کو اس نے بتایا کہ وہ نشے کا عادی تھا ، چوری کیا کر تھا ،اس کی غلط حرکتوں کا کسی کو علم نہ ہو، اس لئے وہ لاپتہ ہوگیاہے۔8 اگست 2021 کو برجیش کے بڑے بیٹے رشو (24) کو سپاری دے کر قتل کرایا گیا۔ اس کی لاش بلندشہر کے گنگا نہر میں پھینک دی گئی ۔

لوگوں کو بتایا کہ وہ ذہنی تناؤ کا شکار تھا ،کہیں گیا ہوگا ،خود ہی آجائے گا۔ 15 اگست کو اہل خانہ نے گمشدہ شخص کی شکایت درج کرائی، اس کی جانچ میںدولت کی خاطر پانچ معصوم رشتہ داروں کے قتل کا سنسنی خیز شرمناک انکشاف ہوا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button