قومی خبریں

راجستھان :نئے شادی قانون کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچا

نئی دہلی24ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)راجستھان میں شادی سے متعلق نئے قانون کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔ آرڈیننس کی آئینی حیثیت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ نیا شادی کا قانون بچپن کی شادی کو جائز قرار دیتا ہے۔ کم عمری کی شادیوں کے اندراج کی اجازت خطرناک صورت حال پیدا کرے گی۔

اس سے بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوگا۔ یوتھ بار ایسوسی ایشن نے یہ درخواست دائرکی ہے۔ یہ درخواست راجستھان لازمی شادی رجسٹریشن (ترمیمی) بل 2021 کے سیکشن 8 کے آئینی جواز کو چیلنج کرتی ہے۔ یہ ترمیم بچوں کی شادیوں کے اندراج کی اجازت دیتی ہے۔ پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ راجستھان حکومت پچھلے دروازے سے داخلے کی اجازت دے کر کم عمری کی شادی کی اجازت دینا چاہتی ہے جو کہ قانون کے تحت غیر قانونی اور ناقابل قبول ہے۔

ہمارا ملک ایک فلاحی ریاست ہے اور حکومتیں قوم کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کی پابندہے۔ بچوں کوسب سے زیادہ اہمیت دینی چاہیے۔ کیونکہ بچے ترقی پذیر قوم کا وسیلہ ہوتے ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ بل ان بچوں کی شادی کی حفاظت کرتا ہے جو شادی کی عمر مکمل نہیں کرتے۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ اس طرح کا بل شادی کی ممانعت ایکٹ ، 2006 کے اس مقصد کو شکست دے گا ، جو بچپن کی شادی کے اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے لایا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button