سرورقصحت اور سائنس کی دنیا
Trending

ایلوویرا کا پتہ اور قدرتی جیل، خوبصورتی اور صحت کے لیے مفید

پتوں پر مشتمل جنگلی کانٹے دار پودے ایلوویرا کو گھیکوار اور کنوار گندل بھی کہا جاتا ہے،

پتوں پر مشتمل جنگلی کانٹے دار پودے ایلوویرا کو گھیکوار اور کنوار گندل بھی کہا جاتا ہے، ماہرینِ جڑی بوٹیوں کی جانب سے ایلوویرا کے پتوں میں موجود لیس دار مواد کو انسانی صحت کے لیے نہایت مفید قرار دیا جاتا ہے۔ جلد کی حفاظت کرنے والی کئی کاسمیٹکس مصنوعات، اپنے اندر کوار گندل (Aloe Vera) کا جزو شامل ہونے کا دعوٰی کرتی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ایلوویرا کو اہمیت دیر سے ملی ہو، مگر یہ نئی ایجاد نہیں ہے بلکہ اس کا سینکڑوں سالوں سے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایلوویرا سے جہاں جِلد اور خوبصورتی سے متعلق متعدد مسائل کا حل ممکن ہے وہیں یہ جسم میں جمی چربی کو پگھلانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، خوبصورتی میں اضافے اور وزن میں کمی کے لیے ایلوویرا کو براہ راست کھایا اور اس کا جوس بنا کر بھی پیا جا سکتا ہے۔

جڑی بوٹیوں سے علاج کرنے والے ماہرین کی جانب سے ایلوویرا کو بہت اہمیت دی جاتی ہے جبکہ پیٹ، جِلد، ایکنی، کیل، مہاسوں، معدے، جگر کے متعدد مسائل اور موٹاپے سے متعلق شکایات لے کر آنے والے افراد کا بھی ایلوویرا کی مدد سے ہی علاج تجویز کیا جاتا ہے۔

ایسا بھی کہا اور مانا جاتا ہے کہ مصر کی ملکہ قلوپطرہ بہتر صحت اور اپنی خوبصورتی برقرار رکھنے کی غرض سے کوار گندل کریم کا استعمال کرتی تھیں۔ زمانہءِ قدیم میں مصر کے لوگ اس کا استعمال انفیکشن کے علاج، جلد کی خرابیوں اور بطور جلاب آور خوراک کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ بابائے طب ہپوکریٹس نے بھی کوار گندل میں موجود کئی ادویاتی فوائد کی وجہ سے اس کا استعمال کیا۔ ہندوستان میں قدیم آیوروید دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ کوار گندل کو جلاب لانے، اور ایکزیما (سوزش جلد) یا خارش کے علاج کے لیے استعمال کرتے تھے۔

طب عرب میں سر درد سے نجات حاصل کرنے کے لیے کوار گندل کے تازہ جیل سے پیشانی پر مالش کی جاتی ہے یا بخار ہونے کی صورت میں مریض کے پورے جسم پر مالش کی جاتی ہے۔

کوار گندل وٹامنز اور منرلز سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس میں وٹامن اے، سی، ای، بی 1، بی 2، بی 3 اور بی 12؛ پروٹین، لپڈز، امائینو ایسڈز، فولک ایسڈ اور کیلشیئم، میگنیشیئم، زنک، کرومیئم، سیلینیئم، سوڈیئم، آئرن، پوٹاشیئم، کاپر اور مینگنیز جیسے منرلز شامل ہوتے ہیں جو ہماری صحت بہتر رکھنے کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں اور ان کی کمی سے مختلف اقسام کی بیماریاں ابھر آتی ہیں۔ ان تمام اجزا کی موجودگی کوار گندل کو کاسمیٹکس اور روایتی ادویات کا اہم جزو بنا دیتی ہے۔

کوار گندل دو چیزیں فراہم کرتا ہے، ایک جیل اور دوسرا عرق جو ادویات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایلو ایک صاف، جیلی نما مواد ہوتا ہے جو کوار گندل پتے کے اندورنی حصے میں موجود ہوتا ہے، جبکہ عرق پودے کی کھال کے نیچے سے حاصل ہوتا ہے جس کا رنگ زرد ہوتا ہے۔

جسم سے فاسد مادے خارج کرتا ہے:
ایلو کھائے جانے پر انتڑیوں سے گزرتے ہوئے زہریلا مواد جذب کر لیتا ہے اور بڑی آنت کے ذریعے خارج کر دیتا ہے۔ اس سے جسم سے سارا فضلہ ٹھیک طرح سے خارج ہوجاتا ہے اور زہریلے مواد سے نجات ملتی ہے۔

جلد کی حفاظت:
کوار گندل کو زخم ٹھیک کرنے کی وجہ سے جانا جاتا ہے اور جلنے، خراش، ایکزیما، خارش اور کیڑوں کے کاٹنے پر لگانا کافی مفید ہے۔ یہ درد سے آرام دلانے والی دوا کے طور پر کام کرتا ہے اور فوراً اثر کرتا ہے۔ پانی کی وافر مقدار میں موجودگی کی وجہ سے کوار گندل جلد میں پانی اور نمی کی مناسب مقدار برقرار رکھنے اور جلد کو جوان رکھنے کے لیے مفید ہے۔

یہ جسم کے ٹشوز کو بھی سکیڑ دیتا ہے جس سے خصوصی طور پر معمولی خراشوں سے خون کے بہاؤ کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ جسم کا کوئی حصہ جل جائے تو اس پر کوار گندل لگانے سے درد کم ہوجاتا ہے اور جلن ختم ہوجاتی ہے۔

سوزش کو کم کرتا ہے:
کوار گندل میں چند ایسے قدرتی اجزاء موجود ہوتے ہیں جو سوزش کو کم کرنے یا روکنے میں مدد فراہم کرتے ہیں؛ بیرونی سطح پر کوار گندل کی جیل لگانے سے پٹھوں کا تناؤ ختم ہوتا ہے، اور اکڑن کے باعث ہونے والے جوڑوں کے درد میں آرام ملتا ہے۔ یہ جوڑوں کی لچک بہتر کرنے میں بھی مدد دیتا ہے مگر یہ سارا راز تازہ تیار کردہ جیل کے استعمال میں موجود ہے۔

ہاضمہ میں مدد:
کوار گندل نظامِ ہاضمہ کی صفائی اور ہاضمہ بہتر بنانے کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ کوار گندل قبض اور ڈائیریا دونوں کے لیے مددگار ہوتا ہے؛ ایسا اس لیے ہے کیونکہ یہ اخراجی نظام کو جاری رکھنے میں مدد کرتا ہے۔

بالوں کی حفاظت:
اگر آپ کے بال روکھے، سخت، کمزور اور دو مونہے ہونے کے ساتھ خشکی کا شکار ہیں تو پھر اس مسئلے کا حل کوار گندل کا استعمال ہے، یہ آپ کے بالوں کو نرم و ملائم بنانے کے ساتھ ٹوٹنے سے بچائے گا۔

احتیاطی تدابیر:
کوار گندل میں کافی زیادہ فوائد ہونے کے باوجود اس کا استعمال احتیاط سے کرنا چاہیے، خاص طور پر اگر اس کا دیرپا استعمال کیا جاتا ہو کیونکہ اس سے الیکٹرولائیٹس خاص طور پر پوٹاشیئم کی کمی ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ دورانِ حمل، خواتین کے مخصوص ایام کے دوران، اور اگر آپ کو بواسیر یا جگر اور پِتہ کی بیماری ہے تو بھی کوار گندل کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔


ایلوویرا کے ذریعے وزن میں کمی اور پیٹ کی چربی کیسے کم کی جائے؟
جسمانی وزن میں کمی کے خواہشمند افراد اسے بطور مشروب روزانہ صبح نہار منہ استعمال کر سکتے ہیں (یہ عمل رات سونے سے قبل بھی کیا جا سکتا ہے)۔

جسمانی وزن کم کرنے، خصوصاً پیٹ کی چربی ایک ماہ کے اندر اندر گھلانے کے لیے ایلوویرا کے 3 سے 4 انچ کے ٹکڑے سے سفید لیس دار مواد نکال کر ایک عدد کھیرے، ایک انچ ادرک، چند ہرے دھنیے کی پتیوں کے ساتھ گرائینڈ کرکے پی لیں۔ ذائقہ بہتر بنانے کے لیے اس میں لیموں کا رس یا پھر کوئی اور سبزی جیسے بند گوبھی اور گاجر بھی شامل کی جا سکتی ہے۔

ایلوویرا جیل کو بغیر کوئی سبزی شامل کیے سادے پانی میں گرائینڈ کر کے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جیل کا براہ راست استعمال میٹابالزم تیز کرتا ہے، وزن میں کمی کا سبب بنتا ہے، کمر کے گرد جمی چربی گھلاتا ہے، قبض سے بچاتا ہے، کولیسٹرول لیول متوازن بناتا ہے، جوڑوں کے درد سے نجات دلاتا ہے اور زہریلے مادوں کا جسم سے اخراج ممکن بناتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button