نئی دہلی، 26 ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی ہائی کورٹ نے جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن (South Delhi Municipal Corporation) سے پوچھا ہے کہ یہاں بہادر شاہ ظفر مارگ پر ایک مزار کے ارد گرد غیر مجاز تعمیر اور تجاوزات کی اجازت کیوں دی گئی؟۔ہائی کورٹ نے کہا کہ اس کے سامنے رکھی گئی تصاویر میں عوامی سڑکوں اور دہلی وقف بورڈ کی زمین پر تجاوزات دکھائی گئی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ یہ جاننا ضروری ہو گیا کہ غیر مجاز تعمیرات اور تجاوزات کی کیسے اجازت دی گئی۔
جسٹس ناجمی وزیری نے 20 ستمبر کو ایک درخواست پر دہلی حکومت، ایس ڈی ایم سی اور دہلی وقف بورڈ کو نوٹس جاری کیا۔ درخواست میں دہلی ہائی کورٹ سے متعلقہ عہدیداروں کے خلاف ان کے ڈویژن بنچ کے حکم کی مبینہ عدم تعمیل کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ ڈویژن بنچ نے متعلقہ اتھارٹی کو ہدایت دی کہ وہ درخواست گزار یوگا سنگھرش سمیتی کی شکایات کو دیکھیں اور درخواست پر قانونی فیصلہ کریں۔
ہائی کورٹ نے 16 جولائی کو کہا تھا کہ اگر انتظامیہ کو سمادھی مقام پر کوئی تجاوزات نظر آئیں تو وہ قبضہ کنندگان کو سننے کا موقع دینے کے بعد فیصلہ کرے گی اور قانون کے مطابق تجاوزات کو ہٹائے گی۔



