
خشک خوبانی ایسی توانا و صحت بخش غذا ہے جو پورا سال دستیاب ہوتی ہے، خشک خوبانی کا ایک چھوٹا سا دانہ اپنے اندر صحت کا ایک ایسا خزانہ چھپائے ہوتا ہے جس سے فائدہ صرف وہی انسان اُٹھا سکتا ہے جو اس کی حقیقت سے واقف ہوتا ہے۔خوبانی (Apricots) لذیذ میٹھے ذائقے اور غذائیت سے بھر پور پھل ہے، خوبانی کو تازہ اور اسے سکھا کر دونوں طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے، خوبانی پوٹاشیم، آئرن، فائبر اور بیٹا کروٹین سے مالامال پھل ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ماہرین غذائیت کے مطابق تازہ اور خشک دونوں صورتوں میں خوبانی کا استعمال صحت کے لیے بے حد مفید ہے جبکہ اسے سکھا کر محفوظ کرنے کے نتیجے میں اس کی غذائیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔غذائی ماہرین کے مطابق خوبانی میں وٹامن اے بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے اسی لیے اس کا استعمال کمزور نظر کو تیز کرتا ہے، جَلد بڑھاپے اور اعصابی کمزوری سے تحفظ فراہم کرتا ہے، گھٹنوں، جوڑوں اور پٹھوں کے درد سے محفوظ رکھتا ہے اور دل و دماغ کو طاقت بخشتا ہے۔
خشک خوبانی میں کیلشیم پائے جانے کے باعث یہ ہڈیوں کی بہترین صحت کے لیے بھی ضروری ہے، کیلشیم کے علاوہ خشک خوبانی میں پوٹاشیم بھی کافی مقدار میں پایا جاتا ہے۔خوبانی سکھا کر خشک میوہ جات کی شکل اختیار کر لیتا ہے جبکہ خشک میوہ ہونے کے باعث بھی اس میں فائبر کی بھاری مقدار پائی جاتی ہے، اس کے علا وہ خشک خو بانی میں کیلوریز بھی بہت کم پائی جا تی ہیں، اس میں موجود فائبر نظام ہاضمہ کی کارکردگی کو مزید فعال بنا دیتا ہے جو وزن کم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
فائبر کی بھاری مقدار کولیسٹرول کی سطح کو بھی کنٹرول کرتی ہے جس کے باعث دل کے امراض لاحق ہونے کے خطرات میں کمی واقع ہوتی ہے، آدھا کپ خشک خوبانی کا استعمال دل کی متعدد شکایات دور کرتا ہے اور خون کی گردش رواں دواں بناتا ہے۔ماہرین کی جانب سے تجویز کیا جاتا ہے کہ کمزور معدے کے افراد اسے کھانا کھانے سے قبل استعمال کر لیں تو بد ہضمی اور پیٹ سے متعلق جملہ امراض سے شفا ملتی ہے، خشک خوبانی قبض دور کریتی ہے۔
خشک خوبانی آئر ن کے حصو ل کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔جو کہ خو ن کی کمی کے خلا ف مزا حمت کر نے کے حو الے سے مفید ثا بت ہو تا ہے۔ عا م طو ر پر خو ا تین مخصو ص ایا م میں خون کی کا شکا ر رہتی ہیں اس لیے انھیں چا ہیے کہ ایسی غذائیں استعما ل کر یں جن میں آئرن کی بھا ری مقدار پا ئی جا تی ہو۔
اگرآپ خشک خوبانی کو اپنی روز مرہ کی خو راک میں (جسم کی ضر ورت کے مطا بق ) شا مل کر یں گے تو یہ ہیمو گلو بن کی سطح میں اضافہ کا باعث ہو گا۔خشک خوبانی میں موجود آئرن خون کی کمی کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور ’اینیمیا‘ (خون کی کمی کی بیماری) کے خلاف قوت مدافعت بڑھاتا ہے۔
غذائی ماہرین کے مطابق خوبانی میں پائے جانے والے اینٹی آکسیڈنٹس کینسر کے خطرات کو بھی کم کرتے ہیں۔ خشک خوبانی جِلد سے جھریوں کا خاتمہ کرتی ہے اور اسے صاف شفاف بناتی ہے، ساتھ ہی سورج کی تپش کے سبب ہونے والی جلن، خارش اور ایگزیما سے بھی بچاؤ ممکن بناتی ہے اس کے علاوہ خشک خوبانی کے استعمال کے نتیجے میں کیل مہاسوں اور جھائیوں کا علاج بھی ممکن ہوتا ہے ۔
خشک خوبا نی میں بخار کی حدت کو کم کر نے کی صلا حیت بھی مو جو د ہو تی ہے ۔ روزانہ ایک کپ خشک خو با نی کے جو س میں ایک چا ئے کا چمچ شہد شامل کر کے پی لیں یہ آپ کو پیا س سے بھی آرام دے گی۔
خشک خوبانی کے مضر اثرات۔
اگرچہ مارکیٹ میں بہت سی غذائی اشیاء ہیں جن کے فوائد خشک خوبانی اور ضمنی اثرات جیسے ہیں جنہیں نظر انداز کیا جا سکتا ہے ، تاہم ، خوبانی کے ساتھ ایسا نہیں ہے ، کیونکہ خشک خوبانی کے غیر منظم استعمال سے سنگین خطرات ہو سکتے ہیں۔یہ ضروری ہے کہ آپ خشک خوبانی کے پیک کو چیک کریں جو آپ نے مارکیٹ سے خریدا ہے ، کیونکہ اس میں سلفر ڈائی آکسائیڈ جیسے زہریلے عناصر ہو سکتے ہیں۔ ہر خشک پھل اس عنصر کو کم مقدار میں رکھتا ہے اور جب کم سے کم مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے تو ، یہ ٹھیک دکھائی دیتا ہے اور مشکل سے جسم کو کسی قسم کی پریشانی کا باعث بنتا ہے۔
تاہم ، یہ انتہائی مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر آپ دمہ جیسی سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہیں تو ، آپ کو خشک ہونے والی اشیاء سے پرہیز کرنا چاہیے ، کیونکہ آپ ان میں موجود سلفائیڈ کے مواد کے لیے انتہائی حساس ہو سکتے ہیں ، اور یہ سانس لینے میں مزید مشکلات اور الرجی کا سبب بن سکتا ہے۔



