بین ریاستی خبریںسرورق
ممتا بنرجی کی بھوانی پور نشست سے جیت- جیت نے واضح کردیا ہے کہ بنگال کے عوام کیا چاہتے ہیں۔نندی گرام سازش کا آج جواب دیا گیا ہے:ممتا بنرجی
کولکتہ ، 3 اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے ہائی پروفائل بھوانی پور ضمنی انتخاب میں 58،000 سے زائد ووٹوں سے جیت حاصل کرکے وزیر اعلیٰ کا عہدہ برقرار رکھا محترمہ بنرجی نے اپنی قریبی حریف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی پرینکا ٹبریوال کو 58،832 ووٹوں کے فرق سے ہرا دیا ۔ بھوانی پور نشست سے ممتا بنرجی کی یہ تیسری جیت ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ (سی پی آئی ایم) کے شریجیوا وشواس تیسرے نمبر پر رہے ۔
2011 میں محترمہ بنرجی نے بھوانی پور سیٹ سے ضمنی انتخاب میں سی پی آئی (ایم) کی نندنی مکھرجی کو 54،213 ووٹوں سے شکست دیتھی اس کے بعد 2016 میں انہوں نے کانگریس کی دیپا داس منشی کو 25،3 01 ووٹوں سے شکست دے کر اپنی جیت کا سلسلہ جاری رکھا۔
بھوانی پور سے اسمبلی انتخاب میں شاندار کامیابی حاصل کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ نندی گرام میں مجھے سازش کے تحت بہت ہی کم ووٹوں سے ہرایا تھا مگر آج بھوانی پور کے عوام نے مجھے کامیابی دلاکر دنیا کو بتادیا کہ بنگال کیا چاہتا ہے۔انہوں نے بھوانی پور کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں بھوانی پور کے عوام کا ہمیشہ مقروض رہوں گی بھوانی میں ممتا بنرجی کی جیت یقینی ہونے کا اعترف تو بی جے پی لیڈران بھی کررہے تھے ۔
بی جے پی امیدوار پرینکا تبریوال مستقل محنت کررہی تھی اس کی وجہ سے ترنمول کانگریس کے لیڈروں کے سامنے یہ بڑا چیلنج تھا کہ ممتا بنرکی جیت کے مارجن کو اسمبلی انتخابات کے مقابلے دوگنا کرنا ہے ۔گزشتہ اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس کے امیدوار شوبھن دیب نے بی جے پی کے امیدوار کو 26ہزار ووٹوں سے ہرایا تھا۔
اس مرتبہ ممتا بنرجی نے ریکارڈ57,632ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے۔2011کے ضمنی انتخاب سے بھی یہ بڑی کامیابی ہے ۔گزشتہ اسمبلی انتخاب میں جن وارڈوں میں ترنمول کانگریس کی کارکردگی بہتر نہیں تھی اس مرتبہ ترنمول کانگریس نے بھوانی اسمبلی حلقے کے تمام وارڈوں میں جیت حاصل کی ہے ۔ممتا بنرجی نے کہا ‘ہم کسی وارڈ میں نہیں ہارے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ہم کسی بھی وارڈ میں نہیں ہارے ہیں۔ کسی بھی وارڈ کے لوگوں نے ہمیں ناپسند نہیں کیا ہے یہ ایک ریکارڈ ہے۔
یہاں تک کہ جب 2016 میں اسمبلی انتاب میں ممتا بنرجی کو ایک یا دو وارڈوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ممتا بنرجی نے کہاکہ لیکن اس بار ہم کسی ایک وارڈ میں نہیں ہارے ہیں۔ممتابنرجی نے بھوانی پور میں فتح کی اہمیت کو بھی واضح کرتے ہوئے کہا کہ بھوانی پور گرچہ ایک چھوٹا مرکز ہے۔ لیکن اس کا دائرہ بڑا ہے۔ پورا بنگال آج بھوانی پور کی طرف دیکھ رہا تھا اور پورے بنگال کو تکلیف ہوئی جب ہم نے تمام انتخابات جیتے لیکن نندی گرام میں میں ہارگئی ۔
بنگال کے عوام نے مجھے حوصلہ دیا اور کام جاری رکھنے کی اپیل کی ۔بھوانی پور کے عوام نے ایک بار پھر مجھے حوصلہ دیا ہے ۔ میں ہمیشہ کے لیے مقروض ہوں۔ صرف میں ہی نہیں ، میری پارٹی اور ترنمول کانگریس خاندان اور بنگال کے لوگ انہیں یاد رکھیں گے۔
ممتا بنرجی نے کہا کہ نندی گرام کے نتائج پر میں زیادہ نہیں بولوں گی ،نندیگرام واقعہ ابھی تک زیر التوا ہے ، اس لیے وہ اس کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی ، لیکن بھوانی پور نے واضح کر دیا ہے کہ بنگال دراصل کیا چاہتا ہے۔ممتا نے کہا کہ میں دو انگلیوں سے فتح نہیں دکھاؤں گی۔ تین انگلیاں فتح کی نشانیاں دکھاتی ہیں۔ کیونکہ ہم تین جگہ جیت گئے ہیں۔
مغربی بنگال :شکست کے بعد بی جے پی امیدوارنے خودکو’مین آف دی میچ ‘کہا
ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے مغربی بنگال کی بھوانی پور سیٹ پر اسمبلی ضمنی انتخاب میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ وزیراعلیٰ ممتا نے اپنی قریبی حریف بی جے پی کی پرینکا تبریوال کو58000 ووٹوں سے شکست دی۔ سی ایم ممتاکے ہاتھوں شکست کے بعد ، بی جے پی امیدوار پرینکا تبریوال نے کہاہے کہ وہ خود اس میچ کی مین آف دی میچ ہیں اور ان کی لمبی عمر ہے اور وہ لڑائی جاری رکھیں گی۔
تبریوال نے کہاہے کہ میں نے کل کچھ سیاسی تجزیہ کار کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جب کوئی میچ ہوتا ہے تو ایک ٹیم جیت جاتی ہے ، ایک ہار جاتی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ ایک میچ تھا۔ ضروری نہیں کہ جیتنے والی ٹیم کا کھلاڑی مین آف دی میچ ہو۔ تو میں اس گیم کی مین آف دی میچ ہوں ، میں نے یہ ثابت کیا ، اس گڑھ میں گئی اور پوری ہمت کے ساتھ الیکشن لڑا اور 25 ہزار ووٹ حاصل کیے۔
کہا جا رہا ہے کہ یہ الیکشن صرف کرسی بچانے کی لڑائی نہیں تھی ، اس الیکشن کے ذریعے یہ پیغام بھی دیا جانا تھا کہ ممتا قومی سیاست میں داخل ہو رہی ہیں ، اس لیے اس ارادے کو بھوانی پور سے فتح کے ذریعے طاقت کی ضرورت ہے۔ اس ضمنی انتخاب میں ممتا بنرجی نے بھوانی پور میں آٹھ سے دس جلسے کیے تھے۔ ممتا کے وزراء اورٹی ایم سی لیڈر بھی اس سیٹ پر پورا زور دیتے نظر آئے۔



