سرورققومی خبریں

لکھیم پور تشدد کیس:مرکزی وزیر کے بیٹے اور 14 دیگر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج-مرنے والوں کے لواحقین کو 45 لاکھ دیئے جائیں گے۔

تشدد میں 4 کسان سمیت 8 افراد ہلاک

نئی دہلی ،04 ؍اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یوپی پولیس نے لکھیم پور تشدد کیس میں مرکزی وزیر اجے مشرا کے بیٹے آشیش مشرا سمیت 14 کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ یوپی پولیس نے یہ معاملہ دفعہ 302 ، 120B اور دیگر دفعات کے تحت درج کیا ہے۔ لکھیم پور تشدد میں اتوار کو 4 کسانوں سمیت 8 افراد ہلاک ہوئے۔ نیز وزیر کی جانب سے بھی پولیس میں شکایت درج کرائی گئی ہے۔ دوسری جانب بھارتیہ کسان یونین کے رہنما راکیش ٹکیت موقع پر پہنچ گئے ہیں۔

کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی جو لکھیم پور کھیری روانہ ہوئی تھیں ان کو بھی حراست میں رکھا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کسانوں نے مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی اور ان کے بیٹے آشیش مشرا ٹینی کے خلاف لکھیم پور کھیری کے ٹکونیا میں اتوار کو ہونے والے تشدد کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے۔

کسان رہنماؤں نے الزام لگایا تھا کہ وزیر کے بیٹے کے قافلے میں شامل گاڑیوں نے احتجاج کرنے والے کسانوں کو کچل دیا۔ اس کے بعد تشدد بھڑک اٹھا اور 4 کسانوں کے علاوہ قافلے میں شامل چار دیگر افراد بھی مارے گئے۔

لکھیم پور تشدد کیس کی جوڈیشل انکوائری ہوگی مرنے والوں کے لواحقین کو 45 لاکھ دیئے جائیں گے۔

اتر پردیش حکومت نے مرنے والوں کے لواحقین کے لیے معاوضہ کا اعلان کیا ہے۔ اے ڈی جی لاء اینڈ آرڈر پرشانت کمار نے بتایا کہ حکومت تشدد میں مرنے والے کسانوں کے خاندانوں کو 45 لاکھ روپئے دے گی۔ نیز گھر کے ایک فردکو نوکری دی جائے گی۔ 10 لاکھ زخمیوں کو دئیے جائیں گے۔ کسانوں کی شکایت کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کی جائے گی۔ ہائی کورٹ کا ایک ریٹائرڈ جج معاملے کی تحقیقات کرے گا۔

اے ڈی جی لاء اینڈ آرڈر پرشانت کمار نے کہا کہ سی آر پی سی کی دفعہ 144 کے نفاذ کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو لکھیم پور آنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ تاہم کسان یونینوں کے کچھ ارکان کو یہاں آنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس سے قبل اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ افسوس ناک ہے۔

نیز وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت اس واقعہ کی وجوہات کی تہہ تک جائے گی اور ملوث عناصر کو بے نقاب کرے گی اور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ حکومت کی طرف سے جاری کردہ ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ جو بھی اس واقعے کا ذمہ دار ہے ، حکومت اس کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔

لکھیم پور کھیری تشدد: میرا بیٹا جائے حادثہ پر نہیں تھا ، راکیش ٹکیت تشدد کے ذمہ دار :اجے مشرا

اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری میں تشدد کے بعد مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا کا بیان منظر عام پر آیا ہے۔ اجے مشرا نے اس تشدد کے لیے بھارتیہ کسان یونین کے رہنما راکیش ٹکیت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اجے مشرا نے کہا ہے کہ میں اور میرا بیٹا اس وقت وہاں پر موجود نہیں تھے۔ اس معاملے کی جوڈیشل انکوائری ہونی چاہیے۔ سچ سب کے سامنے آئے گا۔اجے مشرا نے کہا کہ ہمارے کارکنان بھی تشدد میں ہلاک ہوئے ہیں ، انہیں معاوضہ بھی ملنا چاہیے۔

ہم نے اس واقعہ کے بارے میں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے بات کی ہے۔ جو لوگ قصوروار ہیں ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ ہم نے مقدمہ درج کرانے کے لیے کہا ہے۔اجے مشرا نے مزید کہاکہ جس طرح ہمارے کارکنوں کو مارا پیٹا گیا ہے ، اگر میرا بیٹا بھی وہاں ہوتا تو اسے بھی مارا پیٹا جاتا۔ ہم تحقیقات کے لیے تیار ہیں۔

ویڈیو میں واضح ہے کہ کچھ لوگ مار رہے ہیں اور وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ آپ وزیر کا نام لیں۔ میری گاڑی کارکنوں کو لے کرجا رہی تھی ، شاید انہوں نے اسے دیکھا اور سمجھا کہ میرا بیٹا اس میں ہے۔ اس کو قتل کرنے کے لیے بھی یہ حملہ ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button