لکھیم پوری کھیری سانحہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ: گولی سے کسی کسان کی نہیں ہوئی موت ، دیگر چار لوگ پٹائی سے ہوئے ہلاک : ذرائع
لکھنؤ، 5اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اتوار کو جاری ہنگامہ آرائی او ر کسانوں پر گاڑیاں دوڑا کرہلاک کئے جانے کے بعد لکھیم پور کھیری میں کشیدگی ہے۔ اتوار کو لکھیم پور کھیری کے ٹکونیا قصبے میں پیش آنے والے واقعہ نے پوری ریاست کو ہلا کر رکھ دیا۔اس واقعہ میں مارے گئے کسان نچھتر سنگھ ، گورویندر سنگھ ، دل جیت سنگھ اور لوپریت سنگھ پیر کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔
پوسٹ مارٹم کے لیے ڈاکٹروں کے دو پینل بنائے گئے۔ پوسٹ مارٹم پانچ گھنٹے تک جاری رہا۔ اس دوران ویڈیو گرافی بھی کی گئی۔پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹروں کے ایک پینل میں ڈاکٹر کے کے رنجن ، ڈاکٹر اے کے دویدی ، ڈاکٹر ستیش ورما اور دوسرے پینل میں ڈاکٹر ایس سی مشرا ، ڈاکٹر راجیش اور ڈاکٹر آرتی ورما شامل تھے۔تمام لاشوں کا پوسٹ مارٹم تقریباً پانچ گھنٹے تک جاری رہا۔
اس دوران کسان گوروندر سنگھ کو گولی لگنے کے امکان کی وجہ سے لاش کا ایکسرے بھی کرایاگیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے دوران گولی لگنے کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔دوسری جانب صحافی کی گاڑی کے ڈرائیور اور وزیر کے بیٹے کی گاڑی کے ڈرائیور کا پوسٹ مارٹم اتوار کو کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر کسانوں کی موت کی وجہ ’شاک‘ اور ہمبریج ہے، جبکہ بی جے پی کارکنوں کی موت کی وجہ مار کٹائی اور توڑ پھوڑ بتائی گئی ہے۔ تکونیا ہنگامہ آرائی میں ہلاک کسان کے نام یوں ہیں : (1)نچھتر سنگھ ولد سبھا سنگھ ، ساکن رام دن پوروا تھانہ دھورہرا ۔(2)گرووندر سنگھ ولد سکھ وند سنگھ ،بہرائچ (3)دل جیت سنگھ ولد ہری سنگھ ، بہرائچ (4)لو َ پریت سنگھ ولد ستنام سنگھ،دوسرے مہلوکین(1)شیام سندر،بی جے پی منڈل صدرسنگھائی۔(2)ہری اوم مشرا، گاڑی ڈرائیور،(3)شوبھم مشرا ، بی جے پی بوتھ صدر ، گڑھی روڈ لکھیم پور۔(4)رمن کشیپ ، صحافی رہائشی نگھاسن۔زخمیوں کی فہرست:(1)آشیش کمار ،نگھاسن۔ (2)لو َ کش ،تکونیا(3)شیکھر ، ڈرائیور ساکن سوداما پوری ، لکھیم پور۔
لکھیم پور کھیری تشدد: کسانوں کا الزام ، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کیا گیا’ کھیل‘ ، نعش کی تدفین سے انکار
لکھیم پورکھیری کے تکونیا سانحہ میں مہلوک کسان لو َ پریت کے اہل خانہ نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سازشی’کھیل ‘ کا دعویٰ کرتے ہوئے لاش کی تجہیز و تکفین سے انکا رکردیا ۔ اس موقعہ پر راکیش ٹکیت پہنچے ،جس کے بعد انہوں نے بند کمرے میں بات چیت کی۔ بات چیت کے بعد ٹکیت نے کہا کہ جس کسان کو گولی لگنے کا شبہ ہے اس کا پوسٹ مارٹم ریاست سے باہر کیا جانا چاہیے۔
اہل خانہ نے اس پر اتفاق کیا اور ناراض خاندان نے رضامندی ظاہر کی جس کے بعدلو َ پریت کی آخری رسومات ادا کی جا رہی ہے ۔ خیال رہے کہ اہل خانہ نے لو َ پریت سنگھ کا پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ نان پارہ کے رہنے والے گرویندر سنگھ کو گولی مار کر ہلاک کیا گیاتھا، جس کے بعد اس کے اہل خانہ نے پوسٹ مارٹم رپورٹ پر سوال اٹھاتے ہوئے آخری رسومات ادا کرنے سے انکار کردیا تھا۔
راکیش ٹکیت معاملے کی خبر ملنے کے بعد منگل کو لکھیم پور واپس آئے اورلو َ پریت سنگھ کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے آخری رسومات کیلئے آمادہ کیا۔دراصل لو َپریت سنگھ کو صبح 10 بجے آخری رسومات دی جانی تھیں،لیکن جب پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آئی تو رپورٹ دیکھ کر کسان مشتعل ہوگئے۔ کسانوں نے الزام لگایا تھا کہ نان پارہ بہرائچ کے کسان گوروندر سنگھ گولی لگنے سے ہلاک ہوا ، تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گولی لگنے کا ذکر تک نہیں ہے۔
کسانوں کا الزام ہے کہ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کے بیٹے آشیش مشرا کو بچانے کے لیے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سازشی ’کھیل ‘ کھیلا گیا ہے ۔
لکھیم پور سانحہ نے کسانوں کو ایک ماڈل د ے دیا-اب اسی حکمت عملی کے تحت بھاجپالیڈران کی ہوگی مخالفت
حکومت نے لکھیم پور کھیری میں ہلاک کسانوں کے خاندانوں کو مالی امداد اور سرکاری ملازمتوں پر بات چیت کرکے راحت کی سانس لے لی ہے۔ لیکن حکومت کی مشکلات ابھی ختم نہیں ہوئی ہیں۔ کسانوں کی حکمت عملی یہ ہے کہ آئندہ یوپی اسمبلی انتخابات میں مختلف جگہوں پر بی جے پی لیڈران کی اسی انداز میں مخالفت کی جائے گی۔
انہیں اپنے علاقوں میں انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایک خدشہ ہے کہ اگر بی جے پی رہنماؤں کو اسی طرح انتخابی مہم سے روک دیا گیا تو کسانوں اور بی جے پی کارکنوں کے درمیان تنازعہ بڑھ سکتا ہے۔ اس سے کئی دوسری جگہوں پر لکھیم پور کھیری جیسی ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔
اس صورتحال سے نمٹنا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔متحدہ کسان مورچہ کے سینئر لیڈر ڈاکٹر آشیش متل نے بتایا کہ ہم اپنی اگلی حکمت عملی مہلوک کسانوں کے’ دسویں سنسکار‘یا اس کے ایک دن بعد بتائیں گے۔ اس کے لیے متحدہ کسان مورچہ جلد ہی میٹنگ کرے گا اوراس سلسلے میں فیصلہ کرے گا۔ ابھی تک حکومت نے صرف ملزم آشیش مشرا کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔
اسے ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملزم کو بچانے کی سازش ہے۔ اگر اسے کسانوں کے دسویں تک جیل نہ بھیجا گیا تو یہ تحریک دوبارہ بھڑک سکتی ہے۔ حکومت کو کسی بھی قیمت پر کسانوں کے قتل کے مجرموں کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی۔متحدہ کسان مورچہ نے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی رہنماؤں کو ان کے علاقوں میں داخل ہونے سے روک دیا جائے گا ، انہیں انتخابی مہم کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مغربی اتر پردیش میں بی جے پی لیڈران کا اسی انداز میں مخالفت کی جاچکی ہے۔ لکھیم پور واقعہ کے بعد بھی کسان بی جے پی رہنماؤں کو اپنے علاقوں میں اسی طرح داخل نہیں ہونے دیں گے۔ اس طریقے سے احتجاج کرنے سے کسانوں اور بی جے پی کارکنوں کے درمیان تنازعہ بڑھے گا ، اور ریاست میں دیگر مقامات پر لکھیم پور جیسی صورتحال پیدا ہوگی۔
ان جیسے سوالات پر کسان رہنما نے کہا کہ یہ امن و امان سے متعلق سوال ہے ، اور اس سلسلے میں حکومت اور انتظامیہ کو سمجھنا ہوگاکہ انہیں اس معاملہ کو کیسے حل کیا جا چاہیے۔ ہم کہیں بھی پرتشدد طریقہ کار استعمال نہیں کریں گے ، جمہوری طریقے سے بی جے پی لیڈروں اور وزرا کو کالے جھنڈے دکھاکر انہیں آگے بڑھنے سے روکیں گے۔



