سوانح حیات فلمی و اسپوریٹس

ٹیم انڈیا کے اسٹائلسٹ بلے باز واحد ٹیسٹ میچ کھیلنے والے، بقاء جیلانی ✍️سلام بن عثمان

رنجی ٹرافی ٹورنامنٹ میں ہائٹرک کرنے والے گیند باز

بقاء جیلانی 20 جولائی 1911 کو پنجاب کے جالندھر شہر میں پیدا ہوئے۔ وہ دائیں ہاتھ کے درمیانی صف کے بہترین بلے باز اور میڈیم تیز گیند باز تھے۔ ٹیم انڈیا کے شروعاتی دور میں 1936 کے #انگلینڈ دورہ کے وقت بقاء جیلانی کو ان کی بہترین کارکردگی کی وجہ سے ٹیم انڈیا میں شامل کیا گیا۔ انگلینڈ کے اوول میدان میں دورہ کا پہلا #ٹیسٹ میچ کھیلا جانے والا تھا۔

اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں

بقاء جیلانی نے اوول کے اپنے واحد ٹیسٹ میچ میں 4 اور 12 رنز بنائے۔ 15 اوور کی گیند بازی میں کوئی وکٹ نہیں ملا۔ جس کی خاص وجہ ذہنی دباؤ اور پریشانی تھی۔ اوول کے میدان پر سی کے نائیڈو نے بقاء جیلانی کی سر عام توہین کرتے ہوئے کہا کہ تمہیں ٹیم میں اس لیے لیا گیا کہ سی کے نائیڈو کو #کپتانی سے بے دخل کرنے کے بعد تم نے کپتان ویزی کی حمایت حاصل کی تھی۔

بقاء جیلانی اپنے پہلے فرسٹ کلاس کرکٹ میچ میں 12 #وکٹیں حاصل کیں۔ شمالی انڈیا کی طرف سے رنجی کھیلا کرتے تھے۔ 35-1934 کے رنجی ٹرافی کے پہلے سیمی فائنل میں شمالی #انڈیا نے ساؤتھ پنجاب کو صرف 22 رنز پر آل آؤٹ کر دیا۔ اس وقت رنجی ٹرافی میں سب سے کم اسکور پر آؤٹ ہونے والی ساؤتھ پنجاب کی ٹیم تھی۔ بقاء جیلانی رنجی ٹرافی کے اس میچ میں تین گیند میں تین #وکٹ، یعنی پہلی ہائٹرک والے پہلے گیند باز تھے۔

یہ بھی کہا جا سکتا ہے گیند بازی میں پہلی ہا ئٹرک کا اعزاز بقاء جیلانی کے پاس ہے۔ انھوں نے 25 گیندوں میں صرف 7 رنز دے کر پانچ وکٹ حاصل کیے۔ جس میں ہائٹرک بھی شامل ہے۔ انھوں نے انگلینڈ میں تین روزہ میچ میں لیسٹر میدان میں 113 رنز کی بہت بڑی اننگ کھیلنے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔

دورہ انگلینڈ کے دوران کوٹا راما سوامی کے مطابق بقاء #جیلانی کو ہائی بلڈ پریشر، بےخوابی، نیند میں چلنے کی عادت تھی۔ کوئی بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ کب وہ نارمل رہتے اور کب بے قابو ہو جایا کرتے تھے۔ دورہ کے دوران ان کا مسلسل علاج جاری تھا۔

بقاء جیلانی نے اپنے واحد #ٹیسٹ #میچ میں 16 #رنز بنائے۔ 15 اوور گیند بازی میں کوئی وکٹ نہیں ملا۔ فرسٹ کلاس #کرکٹ میں 31 میچوں میں 928 رنز بنائے جس میں ایک #سنچری اور پانچ نصف سنچریاں شامل رہیں۔ گیند بازی میں 83 وکٹیں لینے کا شرف حاصل رہا۔ جن میں تین مرتبہ پانچ وکٹیں اور ایک مرتبہ دس وکٹیں لیں۔ بہترین #گیند بازی میں 37 رنز دے کر سات #وکٹوں کے ساتھ بارہ کیچ بھی شامل ہیں۔

بقاء جیلانی کی تیسویں سالگرہ سے کچھ روز قبل ان کا انتقال ہوگیا۔ اس وقت کے سابق #کھلاڑی امرسنگھ کا انتقال بھی کم عمر میں ہوا۔ بقاء جیلانی مرگی کے مرض میں مبتلا تھے۔ 2 جولائی 1941 کو جالندھر میں اپنے گھر کی بالکونی کے پاس کھڑے تھے، اسی دوران وہ بالکونی سے گرے اور فوری طور پر ان کا انتقال ہوگیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button