قومی خبریں

دوسروں کی جان کی قیمت پر جشن نہیں منا سکتے: پٹاخوں پر سپریم کورٹ کا تبصرہ

نئی دہلی،06 ؍اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ ایک بار پھر پٹاخوں کے حوالے سے سخت ہو گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ جشن دوسروں کی جان کی قیمت پر نہیں ہوسکتا ۔ عدالت نے کہا کہ ہم جشن منانے کے خلاف نہیں لیکن یہ دوسروں کی جان کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ ملک میں بنیادی مسئلہ پابندیوں کا نفاذ ہے۔ کوئی بھی کسی ایک طبقے کو ناراض نہیں کرنا چاہتا۔جسٹس ایم آر شاہ نے کہا کہ ہمارے پہلے کے احکامات پر عمل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ آپ آج کسی بھی تقریب میں جائیں ، آپ دیکھیں گے کہ پٹاخے پھٹ رہے ہیں۔ خاص طور پر لڑی والے پٹاخے۔ ہم نے پہلے ہی لڑی والے آتش بازی پر پابندی عائد کر رکھی تھی لیکن وہ بازاروں میں بڑی مقدار میں فروخت اور استعمال ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پٹاخہ بنانے والے کہتے ہیں کہ وہ اسے صرف گوداموں میں رکھ رہے ہیں۔ گودام میں پٹاخے کس لیے رکھے جا رہے ہیں؟ کیا یہ خریداری کے لیے نہیں ہے؟

آپ کو گوداموں میں بھی پٹاخے رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے ؟ کسی کو اتنے زوردارپٹاخوں کی ضرورت کیوں ہے؟ ہلکے پٹاخے بھی آتے ہیں۔ جشن ہلکے پٹاخوں سے بھی منایا جا سکتا ہے۔ کیس کی اگلی سماعت 26 اکتوبر کو ہوگی۔دراصل سپریم کورٹ نے پٹاخے اور آتش بازی بنانے والی 6 کمپنیوں کو توہین عدالت کے نوٹس بھیجا تھا ۔

عدالت نے کہا کہ پٹاخوں کی وجہ سے لوگ دمہ اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ہر تہوار ، تقریب میں پٹاخے جلائے جاتے ہیں اور لوگ پریشان ہوتے رہتے ہیں۔ کسی کو اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ بات سی بی آئی کے وکیل کی دلیل پر کہی ، جس میں پوچھا گیا کہ عدالت رپورٹ پر غور کرے ، سپریم کورٹ نے آتش بازی اور پٹاخوں پر پابندی اور گرین پٹاخوں پر سی بی آئی کی رپورٹ میں درج حقائق کو انتہائی سنگین تسلیم کیا ہے۔ عدالت نے رپورٹ چھپانے کے لیے پٹاخہ بنانے والی کمپنیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button