
کراچی ،07 ؍اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ زلزلہ بلوچستان میں جمعرات کو علی الصبح تین بجے آیا۔ اس کی وجہ سے کم از کم 20 افراد ہلاک اور سینکڑوں دیگر زخمی ہو گئے۔ ہلاک شدگان میں متعدد بچے بھی شامل ہیں۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.7 ریکارڈ کی گئی اور اس کا مرکز زمین سے 20 کلو میٹر کی گہرائی میں تھا۔
بلوچستان کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق زلزلے کے وقت بیشتر لوگ اپنے گھروں میں سو رہے تھے۔ اس محکمے کے صوبائی سربراہ ناصر نثار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا، ”اب تک 15 سے 20 تک ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں مگر ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ممکن ہے۔چونکہ زلزلے کی وجہ سے بہت بڑی تعداد میں مکانات مہندم ہوگئے، اس لیے حکام کا خیال ہے کہ بہت سے افراد ان مکانوں کے ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں۔
ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار سہیل انور ہاشمی نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں متعدد عورتیں اور چھ بچے بھی شامل ہیں۔فوجی اور سویلین ایجنسیوں کے اہلکاروں کو طلب کر کے ہنگامی امدادی اور ریسکیو کارروائیوں کے لیے ہرنائی روانہ کردیا گیا ہے۔
ہرنائی زلزلے کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اضلاع میں سے ایک ہے، جو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے بہت دور نہیں۔مقامی افراد بھی زخمیوں کو ہسپتالوں تک پہنچانے میں حتی المقدور مدد کر رہے ہیں۔ ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ ریسکیو کارروائیوں کے لیے علاقے میں ہیلی کاپٹر بھی بھیج دیے گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرزکے مطابق ہرنائی شہر کے ڈپٹی کمشنر سہیل انور نے کہا ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں 100 سے زائد کچے مکانات منہدم ہو گئے اور سینکڑوں دیگر مکانات کو بڑے پیمانے پر نقصان بھی پہنچا۔ ان کے بقول زلزلے کے نتیجے میں کئی سرکاری عمارتیں بھی متاثر ہوئیں۔ایک ہسپتال کے ایک عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا، ’’بیشتر زخمیو ں کی ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں۔
درجنوں افراد کو ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد رخصت کر دیا گیا ہے جبکہ شدید زخمی تقریباً 40 افراد کو ایمبولنسوں کے ذریعہیکوئٹہ بھیج دیا گیا ہے۔پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے، جہاں دو ارضیاتی پرتیں (ٹیکٹانک پلیٹس) ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔
اس وجہ سے اس ملک میں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں۔سن 2015 میں پاکستان اور افغانستان میں 7.5 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس کی وجہ سے تقریباً 400 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔سال 2013 ستمبر کے مہینے میں ضلع آوران میں آنے والے زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.7 ریکارڈ کی گئی تھی، جس سے آوران کے 80 فیصد سے زائد کچے مکانات تباہ ہو گئے تھے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تب اس زلزلے سے خواتین اور بچوں سمیت 515 افراد ہلاک جبکہ 600 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔اس سے قبل سن 2005ء میں بھی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 7.6 شدت زلزلہ آیا تھا، جس میں 73 ہزار سے زائد افراد کی موت ہو گئی تھی اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوگئے تھے۔



