بین ریاستی خبریںدلچسپ خبریں

سانپ سے ساس کا قتل:حیران کن معاملہ سپریم کورٹ پہنچا

نئی دہلی، 7 اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ہندوستان میں ہر سال ہزاروں لوگ سانپ کے کاٹنے سے مر تے ہیں، اسے ایک حادثہ سمجھا جاتا ہے لیکن سپریم کورٹ میں ایک انوکھا کیس سامنے آیا، جس میں کسی کو مارنے کے لیے ایک زہریلے سانپ کو ’ہتھیار‘ کے طور پر استعمال کیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ ایک بوڑھی خاتون کو مارنے کیلئے زہریلے سانپ کوہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ایک گھناؤنا جرم ہے۔

سپریم کورٹ نے راجستھان سے متعلق اس کیس میں ملزم کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔ یہ انوکھا کیس چیف جسٹس این وی رمنا، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہما کولی کی بنچ کے سامنے آیا۔ایک خاتون کی شادی ایک فوجی آدمی سے ہوئی جو اپنے آبائی ضلع سے دور تعینات تھا۔ خاتون اپنے عاشق کے ساتھ فون پر باقاعدگی سے بات کرتی تھی جس کی اس کی ساس نے مخالفت کی تھی۔

خاتون کے سسر بھی نوکری کے سلسلے میں اپنے آبائی ضلع سے باہر رہتے تھے۔ اپنی ساس کی ڈانٹ سے تنگ آکر خاتون نے ایک خوفناک سازش رچی۔ ایسی سازش جو کسی حادثے کی طرح دکھائی دیتی ہے اور کسی کو اس پر شک نہیں ہوتا۔خاتون نے اپنے عاشق اور اس کے دوستوں کے ساتھ مل کر جھنجھنو ضلع کے ایک سنپیرے سے زہریلے سانپ کا انتظام کیا۔ سانپ کو ایک بیگ میں ڈالا گیا۔

2 جون 2018 کی رات خاتون نے سانپ کا بیگ اپنی ساس کے پاس رکھ دیا۔ بزرگ خاتون صبح مردہ پائی گئی۔ جس ہسپتال میں اسے لے جایا گیا اس نے اسے سانپ کے کاٹنے سے موت کا معاملہ بتایا۔سانپ کے کاٹنے سے موت راجستھان اور دیگر ریاستوں میں عام ہے۔ جھنجھنو پولیس بھی اسے ایک عام واقعہ سمجھ رہی تھی لیکن پولیس کا شک اس وقت گہراہوگیا جب انہیں معلوم ہوا کہ واقعہ کے دن مقتول خاتون کی بہو اور ایک مرد کے درمیان 100 سے زائدبار فون پر بات ہوئی تھی۔

یہ بھی انکشاف ہوا کہ یہ دونوں فون پر ایک دوسرے کے ساتھ طویل عرصے سے رابطے میں تھے، وہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ مردہ خاتون کی بہو کا عاشق تھا

متعلقہ خبریں

Back to top button