
برقی کھپت اور پیداوار کا جائزہ ، بحران سے نمٹنے حکومت کا غور و خوص
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ملک میں کوئلہ کی قلت کے اثرات تلنگانہ پر مرتب ہوں گے یا نہیں اس سلسلہ میں ریاستی سطح کی برقی پیدا کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے لیکن تلنگانہ اسٹیٹ سدرن پاؤر ڈسٹریبیوشن کمپنی لمیٹڈ کی جانب سے برقی کٹوتی کی منصوبہ بندی کی جانے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ ریاست تلنگانہ کے شہری اضلاع میں یومیہ 4 گھنٹے کٹوتی اور دیہی علاقوں میں 6گھنٹے برقی کٹوتی کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل ذرائع کے مطابق تلنگانہ اسٹیٹ جینکو کی جانب سے موصول ہونے والی ہدایات کے مطابق ایس پی ڈی سی ایل کے عہدیداروں نے شہری و دیہی علاقوں میں برقی کٹوتی کے سلسلہ میں اقدامات کا جائزہ لیا جا رہاہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل کے اعلیٰ عہدیدارو ں نے آج اس سلسلہ میں اجلاس منعقد کرتے ہوئے شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست تلنگانہ کے جنوبی اضلاع میں برقی سربراہی پر ہونے والے منفی اثرات کا جائزہ لیا اور برقی کھپت میں کمی لانے کے امور پر غور کیا۔
اسی طرح تلنگانہ اسٹیٹ نادرن پاؤر ڈسٹریبیوشن کمپنی لمیٹڈ کی جانب سے بھی ٹی ایس این پی ڈی ایل کے تحت آنے والے اضلاع میں برقی سربراہی طلب ‘ کھپت اور قلت کی صورت میں پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کے امور کا جائزہ لیا گیا ہے۔ تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے کوئلہ کی قلت کے سلسلہ میں یہ کہا جا رہاہے کہ کوئی قلت نہیں ہے اور ضرورت پڑنے پر اضافی کوئلہ حاصل کرنے کے ذرائع ریاستی حکومت کے پاس موجود ہیں لیکن دوسری جانب برقی سربراہ کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے 4 تا 6 گھنٹے برقی کٹوتی کے ذریعہ کھپت میں کمی لانے کے اقدامات کی منصوبہ بندی کی جانے لگی ہے اور کہا جار ہاہے کہ شہری علاقوں اور دیہی علاقوں کے علاوہ صنعتی اداروں کو سربراہ کی جانے والی برقی میں بھی کٹوتی کا جائزہ لیا جا رہاہے۔
دنیا بھر میں کورونا وائرس کے سبب پیدا شدہ صورتحال کے بعد ریاست میں انفارمیشن ٹکنالوجی اداروں میں برقی کھپت میں ہونے والی کمی کا بھی جائزہ لیا جا رہاہے اور کہا جارہا ہے کہ اگر ریاست میں برقی بحران پیدا ہوتا ہے تو ایسی صور ت میں صنعتی ادارو ں کو سربراہ کی جانے والی برقی میں فوری کٹوتی کے اقدامات نہیں کئے جائیں گے کیونکہ اگر صنعتی اداروں کی برقی سربراہی میں کٹوتی کے سلسلہ میں فیصلہ کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں اس کے ریاست کی جی ڈی پی پر منفی اثرات پیدا ہوں گے اسی لئے ابتدائی طور پر گھریلو و تجارتی برقی کٹوتی پر ہی فیصلہ کیا جائے گا۔



