قومی خبریں

راکیش استھانہ کی دہلی پولیس کمشنر کے طور پر تقرری کو چیلنج کرنے والی درخواست ہائی کورٹ میں خارج

نئی دہلی ،12؍اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی ہائی کورٹ نے راکیش استھانہ کی دہلی پولیس کے کمشنر کے طور پر تقرری کو چیلنج کرنے والی درخواست خارج کر دی ہے۔ دہلی پولیس کمشنر راکیش استھانہ کی تقرری کو چیلنج کرنے والی درخواست پر ہائی کورٹ نے اس سے قبل مرکز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا تھا۔

ان کی تقرری کو ایک این جی او نے چیلنج کیا تھا۔ این جی او سینٹر فار پبلک انٹرسٹ لیٹی گیشن (سی پی آئی ایل) نے راکیش استھانہ کی تقرری کو چیلنج کرتے ہوئے ایک مداخلت کی درخواست دائر کی تھی۔درخواست میں کہا گیا کہ استھانہ کی کم از کم مدت چھ ماہ نہیں تھی ، اس لیے ان کی تقرری کے لیے یو پی ایس سی کا کوئی پینل تشکیل نہیں دیا گیا۔

اس کے علاوہ کم از کم دو سالہ مدت کے اصول کو نظر انداز کیا گیا۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے استھانہ کی تقرری سے متعلق درخواست پر دو ہفتے میں فیصلہ کرنے کو کہاتھا۔دہلی پولیس کمشنر اور گجرات کیڈر کے آئی پی ایس راکیش استھانہ نے دہلی ہائی کورٹ میں حلف نامہ داخل کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر ان کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

دہلی پولیس کمشنر کے طور پر ان کی تقرری کے لیے چیلنج قانونی کارروائی کا غلط استعمال کیا جارہا ہے۔ حلف نامے میں استھانہ نے کہا تھا کہ جب سے انہیں سی بی آئی کا خصوصی ڈائریکٹر بنایا گیا ہے ، کچھ تنظیمیں ان کو نشانہ بناتے ہوئے ان کے خلاف درخواستیں دائر کر رہی ہیں۔

راکیش استھانہ کو ریٹائرمنٹ سے کچھ دن پہلے دہلی پولیس کمشنر بنایا گیا تھا۔ نیز دہلی اسمبلی میں استھانہ کی بطور پولیس کمشنر تقرری کے خلاف ایک قرارداد منظور کی گئی اور مرکزی حکومت سے اس تقرری کو واپس لینے کو کہا گیا تھا۔عام آدمی پارٹی نے کہا تھاکہ یہ تقرری سپریم کورٹ کے حکم کی توہین ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر کسی کو ڈی جی پی کی سطح پر مقررکرنا ہے تو اس کی ریٹائرمنٹ میں کم از کم 6 ماہ کا وقت ہونا چاہیے۔ بالاجی شریواستو کی جگہ راکیش استھانہ کو کمشنر بنایا گیاتھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button