سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

گودی میڈیا گاندھی جی کو بھی دہشت گرد قرار دے دیتا

روش کمار

جب کئی برسوں سے گودی میڈیا اپوزیشن کو روکنے میں مصروف ہے تب پھر یوپی انتظامیہ اپوزیشن کو روکنے کی خاطر اتنی محنت کرتا رہا اور جس پولیس اور لا اینڈ آرڈر کو کام کرنے کے نام پر اپوزیشن کو روکا گیا، اس کا کچھ ریکارڈ شروع میں بتاتا ہوں۔ عصمت ریزی کے ایک کیس میں بی جے پی کے سابق ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سینگر کو لے کر کونسی لا اینڈ آرڈر کس طرح سے کام کررہی تھی آپ پھر سے اسی اسٹوری کو سرچ کرلیں۔

گورکھپور میں گنیش گپتا قتل کیس کے سلسلے میں معاوضہ اور نوکری کا اعلان تو ہوا لیکن ابھی تک پولیس نے 6 ملزم پولیس والوں کو گرفتار نہیں کیا۔ پچھلے سال اسی گورکھپور کی پولیس کے ایک سب انسپکٹر اُردو اہلکاروں نے صرافہ تاجرین سے 35 لاکھ کا سونا چاندی لوٹ لیا تھا۔ 3 پولیس والے گرفتار ہوئے۔

پچھلے ایک سال سے مہوبہ کا سابق ایس پی آئی پی ایس منی لال پاٹیدار فرار ہے، اس پر بزنس مین اندر کانت ترپاٹھی کے قتل کا الزام ہے۔ اس کے بعد بھی #گودی #میڈیا کے باعث کئی لوگوں کو #اپوزیشن کا اس طرح روکا جانا غلط نہیں لگا ہوا، ایسے لوگوں کو اب غلط لگتا ہی نہیں۔

آج گاندھی ہوتے اور چمپارن جارہے ہوتے تو گودی میڈیا کے یہ اینکر #گاندھی کو بھی دہشت گرد بتا رہے ہوتے اور کہہ رہے ہوتے کہ گاندھی جی جنوبی آفریقہ سے آکر چمپارن سیاسی سیر سیاحت کرنے جارہے ہیں۔ کسانوں کے پاس گاندھی جی چل کر نہیں گئے ہوتے تو آزادی کی لڑائی میں اہم موڑ آتا ہی نہیں۔

اگر ولبھ بھائی پٹیل برڈولی ستیہ گرہ میں #کسانوں کے درمیان نہیں گئے ہوتے تو وہاں کی مہیلا کسانوں نے انہیں سردار نہیں کہا ہوتا۔ گودی میڈیا نے آپ کی نظروں میں جمہوریت کے قتل کا عمل پورا کردیا ہے۔
کسانوں کے پاس جانے والے قائدین میں سے کوئی گاندھی نہیں ہے اور نہ ہی سردار لیکن جس طرح سے پولیس نے رکن راجیہ سبھا دیپندر ھوڈا کو دھکہ دیا، اس میں آپ کو اپوزیشن کی سیاحت دکھائی دی ہے یا انتظامیہ کی ناکامی؟ یہ دھکہ دپیندر ھوڈا کو نہیں بلکہ دیکھنے والوں کو دیا گیا ہے تاکہ آپ سمجھ لیں کہ اپوزیشن منظور نہیں۔ ٹھیک اسی طرح سے پچھلے سال اس وقت ہاتھرس میں ٹی ایم سی رکن راجیہ سبھا براک اوبرائن کو دھکہ دیا گیا تھا۔

ٹی ایم سی کے ایم پی ہاتھرس کی متاثرہ و مقتول لڑکی کے گھر جانا چاہتے تھے جس کی آخری رسومات پولیس کی سخت سکیورٹی میں راتوں رات انجام دی گئی۔ متاثرہ کی نعش کو اس کے گھر کے آنگن میں لے جانے کی اجازت تک نہیں دی گئی۔ ہاتھرس پہنچنے کی کوشش ناکام بنانے کیلئے راہول گاندھی کو دھکہ دے کر گرادیا تھا۔

کیا اسے کسی بھی طرح سیاسی سیاحت قرار دیا جاسکتا ہے؟

اس وقت راہول اور پرینکا گاندھی کو روکنے کیلئے دفعہ 188 نافذ کی گئی تھی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ قانون کا سہارا لیا گیا۔ گزشتہ سال جو ہاتھرس تھا، اس سال لکھیم پور کھیری ہے۔ پولیس کے ساتھ پرینکا گاندھی کی بحث نے یہ بتایا ہے کہ پولیس کی طاقت کا استعمال کس کام کیلئے ہونے جارہا ہے۔

قانون کے نام پر کاغذی لکھائی پڑھائی کے بہانے کسی کو بھی زندگی بھر کیلئے پھنسا دینے والی پولیس اپوزیشن کو روکنے کیلئے بناء کسی تحریر و کاغذ کے آگئی۔پرینکا گاندھی اور بی ایس پی جنرل سیکریٹری ستیش مشرا پولیس ، گرفتاری کا آرڈر طلب کرتے رہے، انہیں آرڈر کی نقل نہیں دی گئی۔

پرینکا گاندھی پیدل چلتی رہی اور بار بار روکی جاتی رہی اور بالآخر میں سیتاپور میں روک لی گئیں۔ انہوں نے بار بار پولیس کو وارنٹ لانے کیلئے کہا اور پولیس عہدیداروں کو سبق دیا کہ وہ خواتین سے بات کرنا سیکھیں، ایک مرحلہ پر پرینکا نے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’قانون تمہارے پردیش میں نہیں ہوگا، اس دیش میں قانون ہے‘‘۔ گودی میڈیا اس پوری صورتحال کو زیادہ اہمیت دینے سے گریز کرتا رہا۔

ایک طرف گودی میڈیا کسانوں پر مظالم کے حساس مسئلہ کو پس پشت ڈال رہا ہے اور ہم یعنی عوام ایک شہری ہونے کے ناطے ہماری جو ذمہ داریاں ہیں، اس سے پہلوتہی کررہے ہیں۔ حکومت یہ بوگس دلیل دے رہی ہے کہ اپوزیشن صرف سیاسی سیاحت میں مصروف ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی قائدین اور حکومت ہی سیاسی سیاحت کررہے ہیں۔

مثال کے طور پر جب بیرونی ممالک کے ارکان پارلیمنٹ نے سرینگر کا دورہ کرنا چاہا، انہیں سخت سکیورٹی میں سرینگر کا دورہ کرایا گیا۔ جھیلوں میں کشتی رانی سے وہ محظوظ ہوئے لیکن حکومت نے جب اپنے ملک کے ارکان #پارلیمنٹ اور سیاسی قائدین نے #کشمیر کے دورہ کی کوشش کی انہیں طاقت کے زور پر روک دیا ۔

یہ ایک عجیب معمہ ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ اگست 2019ء میں جب ہماری اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے سرینگر جانے کی کوشش کی تب انہیں سرینگر سے دہلی واپس بھیج دیا گیا۔ وہ ہندوستانی ہونے کے باوجود کشمیر کا دورہ نہیں کرسکے اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ اپنے ہی ملک میں بیگانے ہوگئے ہیں۔ جب کبھی آپ میں موجود اپوزیشن کو ماردیا جاتا ہے تو بیرونی ممالک کے ارکان پارلیمنٹ اور جہدکار وادی کا دورہ کرتے ہیں۔

حد تو یہ رہی کہ خود کشمیر کے اپوزیشن قائدین کو ان کے گھروں پر نظربند کردیا گیا اور ان کی یہ نظربندی سال بھر رہی۔ محبوبہ مفتی تو اب بھی کہہ رہی ہیں کہ انہیں گھر پر نظربند کرکے رکھا گیا ہے۔ اس پر طرفہ تماشہ یہ کہ حکومت کی جانب سے جھوٹ پر جھوٹ بولا جارہا ہے لیکن یوپی کے معاملے میں جھوٹ بولنے اور دروغ گوئی سے کام لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔

کسانوں کو کار سے کچل دیئے جانے کے بعد اپوزیشن قائدین میں برہمی پیدا ہوگئی اور وہ لکھیم پور کھیری جاکر مہلوک کسانوں کے لواحقین سے بات کرنا چاہتے تھے لیکن صبح میں سابق چیف منسٹر اکھیلیش یادو کی رہائش گاہ کے باہر جو منظر دیکھا گیا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت اپوزیشن پر کس قدر مہربان ہے، یہ کوئی عام یا معمول کا منظر نہیں تھا۔ پہلی مرتبہ اپوزیشن کو نہیں روکا گیا، اکھیلیش یادو کی قیام گاہ کے باہر ایک بڑا سے ٹرک استعمال کرتے ہوئے رکاوٹ کھڑی کردی گئی تھیں۔

اس بڑی رکاوٹ کو دیکھ کر یقینا ہم سب کو وہ بڑے بڑے کینٹینرس یاد آگئے جو پولیس نے کسانوں کو دہلی میں داخل ہونے سے روکنے کی خاطر استعمال کئے تھے۔ ان مناظر کو دیکھنے کے بعد کسی کو کم از کم وہ نوکیلے کیل تیز دھاری فولادی تار ان سے بنائی گئی باڑھ ضرور یاد آئی ہوگی جس کے ذریعہ کسانوں کو روکنے کی کوشش کی گئی۔

اس طرح کے ظالمانہ طریقوں کا استعمال شاید انگریزوں نے بھی نہیں کیا ہوگا۔جب سیاست داں (اپوزیشن خاموش رہتی ہے) تو آپ (گودی میڈیا) کہتا ہے کہ اپوزیشن قائدین تو گھروں میں بیٹھے ہیں اور جب وہ باہر آنا چاہتے ہیں تو انہیں گھروں پر نظربند کردیا جاتا ہے۔ پھر بھی گودی میڈیا اسے سیاسی سیاحت قرار دے گا؟

یہ تعجب کی بات نہیں کہ گودی میڈیا اصل عوامی مسائل پر توجہ دلانے کیلئے حکومت اور حکمراں جماعت کی چاپلوسی میں مصروف رہتا ہے۔ ملک کی موجودہ صورتحال اور چاپلوسانہ رجحان کیلئے گودی میڈیا سے اظہار ممنونیت کیجئے۔ اب تو ملک میں اپوزیشن کو ختم کرنا قانونی ہوگیا ہے۔ اس پر مسرت موقع پر آپ 110 روپئے فی لیٹر پٹرول حاصل کیجئے۔

کسان ایکتا مورچہ نے ہندوستانی قوم کو غفلت کی نیند سے بیدار کرنے کیلئے ایک سبق آموز ٹوئٹ کیا جو کچھ اس طرح تھا،گڈ مارننگ انڈیا آرام سے سوتے رہئے‘‘۔ آپ کو اچھی طرح نیند بھی آئی؟ یہاں (لکھیم پور) میں دیکھئے کہ کسانوں نے مقتول کسانوں کی نعشوں کا تحفظ کرتے ہوئے رات کیسے گزاری کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ریاست ان مقتول کسانوں کی نعشیں چھین کر اس طرح زبردستی نعشوں کی آخری رسومات انجام دے، جیسے ہاتھرس میں اجتماعی عصمت ریزی کے بعد بڑی بے دردی سے قتل کئے جانے والی دلت لڑکی کی آخری رسومات انجام دی تھی۔

گودی میڈیا کسانوں کے قتل کو کسان بمقابلہ بی جے پی کے طور پر پیش کررہا ہے۔ ایک بڑے عوامی حلقہ کو یہ بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مرنے والے کسان نہیں تھے۔ جو لوگ یہ نہیں مانتے لوگ یہ سوال تک نہیں کرتے کہ اگر وہ کسان نہیں ہیں تو پھر 10 ماہ سے زرعی بلز کے خلاف احتجاج کیوں کررہے ہیں؟

اپنی جانوں کا نذرانہ کیوں پیش کررہے ہیں۔ ایک ایسے وقت جبکہ اپوزیشن کو کہیں بھی جانے نہیں دیا جارہا ہے، کسان ایسے میں کوئی کیوں دس ماہ سے احتجاج کرسکتا ہے۔ کیا وہ حقیقی کسان سے جعلی کسان بننے کیلئے ایسا کررہے ہیں۔ اگر وہ کسان نہیں ہیں تو پھر 22 جنوری سے قبل حکومت نے کس سے بات کی؟

آپ کو بتادیں کہ جو چار کسانوں کو گاڑی تلے روندا گیا، ان میں 3 کسانوں کی عمریں 32 سال، 20 سال اور 24 سال ہے۔ ایک کسان کی عمر 60 سال بتائی جاتی ہے۔ کسانوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ جس کار کے ذریعہ کسانوں کو روندا گیا۔ کچلا گیا، اس کار میں مرکزی ممکتی وزیر داخلہ اجئے مشرا کا بیٹا اشیش مشرا اور اس کے آدمی سوار تھے۔

ایف آئی آر میں 15 نام درج کئے گئے ہیں جن میں مرکزی وزیر اور اس کے بیٹے کے نام شامل ہیں۔ اجئے مشرا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے کسکانوں کو ببر خالصہ کے دہشت گرد تک قرار دیا۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کسان اگر دہشت گرد ہیں تو پھر انہیں معاوضہ اور ملازمتوں کا اعلان کیوں کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button