کروز ڈرگ کیس: این سی پی نے ایک بار پھر این سی بی پر اٹھائے سوالات پوچھا،’فلیچر پٹیل جب افسر کا دوست ،تو پھر پنچنامہ میں نام کیوں؟ٗ
ممبئی، 16اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ممبئی کروز ڈرگس پارٹی کے معاملہ میں ہر روز ایک نیا موڑ آرہا ہے، جس سے یہ معاملہ مشکوک ہوگیا ہے۔ مہاراشٹرا حکومت مسلسل این سی بی کے کام کاج پر سوالات اٹھا رہی ہے۔ مہاراشٹرا کے وزیر نواب ملک این سی بی پر مسلسل حملہ کر رہے ہیں۔اب انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ این سی بی کے کاموں کو بے نقاب کریں گے ، جس میں کئی غیر قانونی کام کئے جا رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ یہ سب کچھ میڈیا اور پریس کے ذریعے نہیں کریں گے بلکہ اپنے ٹویٹر ہینڈ پر معلومات دے کر این سی بی کے کاموں کو بے نقاب کریں گے۔ نواب ملک نے کچھ ٹویٹس بھی کئے ہیں ، جن میں انہوں نے این سی بی کے کام پر سوال اٹھایا ہیں اور اس کام کاج کے خلاف ثبوت بھی پیش کیے ہیں۔
وزیر نواب ملک نے این سی بی پر الزام لگایا کہ نارکوٹکس کنٹرول بیورو نے فلیچر پٹیل کو پنچ نامہ میں پنچ بنایا ہے، جبکہ فلیچر پٹیل ممبئی این سی بی کے سربراہ سمیر وانکھیڑے اور ان کے خاندان کے دوست ہیں۔ نواب ملک نے کہا کہ میں سوال کرنا چاہوں گا کہ کیا این سی بی افسر کے دوست کو پنچ بننے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟
کیا اس کی قانونی اجازت ہے؟ نواب ملک نے ایک کے بعد ایک ایسے کئی ٹویٹ کیے ہیں ، جن میں وہ سوالات اٹھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔2 اکتوبر کو این سی بی نے ممبئی کے قریب جہاز پر چلنے والی ڈرگ پارٹی پر چھاپہ ماراتھا، اس چھاپہ ماری میں این سی بی نے معروف فلم سپر اسٹار شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان سمیت سات افراد کو گرفتار کیا تھا۔
اس واقعہ کے بعد ، مہاراشٹرا کے وزیر نواب ملک نے کروز ڈرگس کیس میں بی جے پی کارکنان منیش بھانوشالی اور کے پی گوسوامی کے کردار پر سخت سوال اٹھائے تھے۔ اس کے علاوہ نواب ملک نے کروز ڈرگس چھاپہ ماری کو جعلی بھی قرار دیا تھا۔



