ستمبر 2021ء کی 23 تاریخ کو ریاستی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ٹی آر نے اپنے ٹویٹر اکائونٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی۔ اس ویڈیو میں ایک کم عمر لڑکے کو صبح کے وقت لوگوں کے گھروں پر #اخبارات پہنچاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ویڈیو بنانے والے صاحب نے جب اس لڑکے سے پوچھا کہ تم اخبارات ڈالنے کا کام کیوں کر رہے ہو تو اس لڑکے نے بڑے ہی پر اعتماد لہجے میں جواب دیا کہ کیوں کیا خراب بات ہے اس کام میں؟
تفصیلات کے مطابق اس لڑکے کا نام جئے پرکاش ہے۔ اور اس کا تعلق جگتیال شہر سے ہے اور ہر روز صبح میں یہ لڑکا سیکل پر گھوم کر لوگوں کے گھروں تک #اخبار پہنچانے کا کام کرتا ہے۔ جئے پرکاش نام کا یہ لڑکا مزید کہتا ہے کہ محنت کر کے کام کرنا کوئی خراب بات نہیں ہے۔ محنت آگے چل کر ضرور کام آئے گی۔ جئے پرکاش کے متعلق یہ بھی بتلایا گیا کہ وہ ایک گورنمنٹ اسکول میں پڑھتا ہے۔
کے ٹی آر کی ٹویٹ پر بہت سارے لوگوں نے اس لڑکے کی محنت کو سراہا اور اس کی مدد کرنے کی تجویز دی۔شہر حیدرآباد و سکندر آباد میں روزانہ صبح کے اوقات میں اوسطاً لاکھوں اخبار ہاکرس کے ذریعہ لوگوں کے گھروں تک پہنچائے جاتے ہیں اور ان ہاکرس میں اب نوجوان اور کم عمر بچے خال خال ہی باقی بچے ہیں اور سیکل پر اخبار ڈالنے والوں کی جگہ ٹو وہیلرس پر اخبار ڈالنے والے نظر آرہے ہیں۔
شہر حیدرآباد کے ایک مسلم علاقے کا منظر ہے۔ رات کے 3 بجے ہیں اور چند نوجوان ایک گھر کے باہر اپنی ٹو وہیلرس پر بیٹھے سگریٹ نوشی میں مصروف ہیں۔ اسی دوران وہاں پر ایک کار آکر رکتی ہے اور اس میں سوار خواتین و حضرات وہیں ایک گھر میں جانا چاہتے ہیں جہاں پر کہ نوجوان جمع ہیں اور سگریٹ نوشی کر رہے ہیں۔
کار میں سوار ایک صاحب آگے بڑھ کر نوجوانوں سے دریافت کرتے ہیں کہ وہ لوگ کون ہیں اور یہاں کیوں کھڑے ہوئے ہیں، کہیں اور جاکر سگریٹ نوشی کرلیں۔ بات جلد ہی بحث میں بدل جاتی ہے اور بحث لڑائی کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ دھکم پیل اور مارپیٹ کے نتیجے میں کار میں سوار صاحب کا سر زخمی ہوجاتا ہے۔ پولیس کے پہنچنے تک وہ نوجوان وہاں سے فرار ہوجاتے ہیں۔
اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں
یہ صاحب کوئی اور نہیں بلکہ ایک این آر آئی تھے جو تعطیلات میں اپنے وطن آئے ہوئے تھے۔ رات کے وقت اپنے ایک عزیز کے پاس سے واپس ہو رہے تھے کہ ان کے گھر کے سامنے ہی نوجوانوں کا گروپ جمع تھا جو ان کے گھر کی خواتین کو جانے کے لیے راستہ بھی نہیں دے رہا تھا۔
کیا وہ غیر مسلم نوجوان تھے، اس سوال کے جواب میں این آر آئی نے بتلایا کہ بھائی صاحب میرا مکان ایسے مسلم محلے میں ہے کہ وہاں رات تو دور دن کے اوقات میں بھی غیر مسلم حضرات کا گذر نہیں ہوتا ہے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی کی مدد سے نوجوانوں کا پتہ لگانے کی کوشش کی لیکن علاقے میں موجود کیمرے ناکارہ ہوجانے کے سبب انہیں کامیابی نہیں ملی۔
اس دوران ان صاحب کی واپسی کا وقت آگیا اور وہ ملازمت کے سلسلے میں بیرون وطن واپس ہوگئے۔ ان کا ایک ہی اصرار تھا کہ اپنے بچوں کی تربیت پر ہمیں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
قارئین کرام ماہ ربیع الاول کا مبارک مہینہ شروع ہوچکا ہے۔ اخبارات میں اس مہینے کے آغاز پر خصوصی میٹھوں کی تیاری اور فروخت کے اشتہارات شائع ہو رہے ہیں۔ ہر مسلم محلے، گلی اور نکڑ پر سبز پرچم سجائے جارہے ہیں۔ واٹس ایپ، فیس بک کے علاوہ عوامی مقامات پر بڑے بڑے پوسٹرس لگائے جارہے ہیں۔ جلسہ سیرت النبیؐ کے لیے مختلف کمیٹیوں، انجمنوں کی جانب سے پروگرام کے انعقاد کا اعلان کیا جارہا ہے۔
کیا جشن میلاد النبیؐ کا اس سے بہتر اور مؤثر طریقے سے انعقاد ممکن نہیں؟ دور حاضر میں مسلمانوں کو محنت کی طرف اور اکل حلال کی طرف راغب کرنا بھی ایک اہم چیالنج ہے اور اس چیالنج کا سامنا کرنے کے لیے اس ماہ مبارک کے دوران بھی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔
موجودہ کورونا کے وبائی دور نے لوگوں کے معاش کے لیے مسائل کو سنگین بنادیا ہے۔ مسلم نوجوان محنت کر کے کمانا چاہتے ہیں تو ہمارا سماج انہیں طعنوں و تشنہ سے لہو لہان کر کے غیر قانونی، غیر اسلامی طریقوں سے مال و دولت کے حصول کے لیے مجبور کر رہا ہے۔
قتل، اغواء، چوری، شراب، نشہ اور کونسی برائی بچی ہے۔ جرائم و حادثات کی ہر خبر میں اب مسلمانوں کے نام سرخیوں میں شامل ہیں۔ ذرا غور کیجئے کہ آج کا نوجوان آخر کیوں اس طرح کی حرکات و سکنات کے دلدل میں پھنستا جارہا ہے۔ کیا علماء کرام، مشائخین عظام کو قصوروار قرار دے کر ہم اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کرسکتے ہیں؟
جشن میلاد النبیؐ کے موقع پر سیرت النبیؐ کے ان پہلوئوں پر بات ہونی چاہیے جو نوجوانوں کو محنت کے لیے راغب کریں اور قارئین سب سے اہم نکتہ کہ مسلمانوں کی اکثریت آج اردو زبان، اردو ذریعہ تعلیم سے بالکلیہ دور ہوگئی ہے اور دوسری طرف سیرت النبیؐ اور جشن میلاد النبیؐ کے تقریباً پروگرام، تقاریر، جلسے صرف اور صرف اردو زبان میں ہو رہے ہیں۔
کیا نوجوان نسل اور امت مسلمہ کی دین سے، دینی تعلیمات سے دوری کا اہم سبب اردو زبان سے دوری تو نہیں؟
جتنی بڑی تعداد میں مسلمان بچے انٹرمیڈیٹ (12 ویں جماعت) میں عربی زبان کو اختیار کرتے ہیں کیا وہ ان کی عربی زبان سے محبت ہے؟ بڑے ہی ادب کے ساتھ اور عربی زبان سے عقیدت و محبت کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے کہنا چاہوں گا کہ مسلمان بچوں کی اکثریت بارہویں جماعت (انٹرمیڈیٹ میں) زبان دوم کے طور پر عربی اس لیے اختیار کرتے ہیں کہ اس مضمون میں وہ سوفیصدی نشانات حاصل کرسکتے ہیں۔
عربی زبان کی یہ دراصل بے قدری ہے جو ہم عقیدت و احترام میں نہیں بلکہ اپنے مادی فائدے کے لیے بچوں کو سکھا رہے ہیں۔ ہم دین اسلام کو ہم اپنے فائدے اور مقصد کے لیے حسب ضرورت استعمال کرسکتے ہیں۔ جو لوگ عربی زبان 100 مارکس حاصل کرنے کے لیے پڑھاتے ہیں۔ اسی عربی زبان کو دین اسلام جاننے، سمجھنے کے لیے سکھانا نہ تو ہم نے بطور سرپرست ضروری سمجھا اور نہ ہی ہماری نوجوان نسل اس کو سمجھ پائے گی۔
یہ نہ تو کسی ہندوتوا تنظیم کی سازش ہے اور نہ ہی یہودیوں کی جانب سے بنایا جانے والا پروگرام ہے۔ یہ چال تو ہم نے خود ہی چلی ہے اور اس کا نتیجہ بھی ہمارے سامنے موجود ہے۔ مولانا سراج الحسن صاحب، سابق امیر جماعت اسلامی، ہند کے حوالے سے یہ بات منقول ہے کہ ’’آج کا مسلمان اسلام کے لیے سر کٹانے کے لیے تو تیار ہے لیکن سر جھکانے کے لیے تیار نہیں۔‘‘
انٹرنیٹ سوشیل میڈیا اور یوٹیوب سے دین سیکھنا کتنا آسان ہے مجھے نہیں معلوم اور میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا ہوں کہ یہ طریقہ کتنا بھروسہ مند ہے۔ کیونکہ جب سے لوگ ٹیلی ویژن، سوشیل میڈیا اور یوٹیوب کے ذریعہ دین اسلام سیکھنے لگے تب سے ہی عید میلاد النبیؐ کے موقع پر جشن منانے کے نئے نئے طریقے بھی عام ہونے لگے ہیں۔
پہلے تو نعت شریف کے ساتھ موسیقی کا تصور بھی نہیں تھا۔ اب تو نعت شریف کے ساتھ موسیقی ڈی جے بلکہ ہر طرح کا بیانڈ باجہ سنائی دے رہا ہے اور ہمارے نوجوانوں کے لیے جشن عید میلاد النبیؐ کے موقع پر ڈی جے بیانڈ باجہ ویسے ہی لازم ہوگیا ہے جیسا کہ وہ دیگر برادران وطن کو ان کے عید تہواروں پر بجاتے دیکھتے ہیں۔
یقین مانئے دین کی تعلیم اور اصل روح سے محروم مسلم نوجوان آج ہر طرح سے بے چین ہیں اور اس میں نوجوان لڑکے لڑکیوں کا کوئی امتیاز نہیں ہے۔
ریاست تلنگانہ میں فی الحال بتکماں (پھولوں) کا تہوار منایا جارہا ہے۔ ٹینک بنڈ پر اس حوالے سے باضابطہ سرکاری سطح پر پروگرام منعقد کیے جارہے ہیں۔ (ٹینک بنڈ شہر حیدرآباد کا ایک مرکزی عوامی مقام ہے۔) گذشتہ دنوں ایسی ویڈیوز سامنے آئیں جب بتکماں کے تہوار کے دوران غیر مسلم خواتین موسیقی پر رقص کر رہی تھیں تو برقعہ پوش اور اسکارف پہنی ہوئی لڑکیاں بھی وہاں موجود تھیں اور پھر ایک مرحلہ ایسا بھی آیا جب یہی برقعہ پوش اور اسکارف پہنی ہوئی لڑکیاں بھی بتکماں کے رقص میں اپنے اسی حلیہ اور لباس کے ساتھ شامل ہوگئیں۔
جب ہم نے برقعہ اور اسکارف کو لوگ کیا کہیں کہہ کر لڑکیوں کو پہنانا اور اوڑھنا سکھایا تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان لڑکیوں نے دیکھا کہ گھر سے دور ہیں، ٹینک بنڈ پر ہیں، کوئی جاننے والا قریب بھی نہیں تو انہوں نے برقعہ کے ساتھ اور اسکارف پہن کر بھی ناچنے میں کوئی قباحت نہیں سمجھی۔
اگر ہم لوگ کیا کہیں گے کے بجائے ہمارا رب ہم سے کیا کہتا ہے؟ اس بات کی تعلیم دیتے تو ہمارے بچے ہوں یا بچیاں ٹینک بنڈ پر جائیں یا چاند پر جائیں ہمارا خدا ہمیں دیکھ رہا ہے کا تصور انہیں ہر طرح کی برائی سے محفوظ رکھ سکتا تھا۔
کاش کہ ہم خود ہوش کے ناخن لیں، جشن عید میلاد النبیؐ کے موقع پر عہد کریں ہمارا یہ جشن ایک دن تک محدود نہیں ہوگا بلکہ ہم اپنے نبیؐ سے محبت کا اظہار ہر دن، ہر رات بلکہ لمحہ کریں گے اور رحمت اللعالمین کی سیرت کا ہر روز عملی نمونے پیش کریں گے اور اپنی زندگی کا ہر دن جشن منائیں گے۔
ہم نبی آخر الزماں کے امتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب دوسرا کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ آپ کے لائے دین کی تعلیمات سارے عالم تک پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے اور ہم اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے پہلے خود اپنی ذات سے دین کو اس کی تعلیمات کو سمجھیں گے۔ اپنی اولاد کے لیے سیرت النبیؐ کا عملی نمونہ پیش کریں گے اور بالآخر یہی دعوت دیگر برادران وطن تک بھی پہنچائیں گے۔ (انشاء اللہ تعالیٰ)
ورنہ برادرانِ وطن تو عید میلاد النبیؐ سے مراد کھیر پوری اور میٹھا کھاکر DJ کے ساتھ جلوس نکالنے کو سب کچھ سمجھیں گے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہماری آنکھیں بند ہونے سے پہلے ہماری سانسیں ختم ہونے سے پہلے غفلت کے اس دلدل میں ہم سب کو نکال دے اور دنیا و آخرت میں ہر طرح کی رسوائی سے بچائے۔ آمین یارب العالمین۔
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)



