چندی گڑھ ، 18اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) پنچ کولہ کی خصوصی سی بی آئی عدالت نے آج ڈیرہ سچا سودا سربراہ اور سادھوی کے ساتھ عصمت دری کے جرم میں جیل میں بند ملزم گورمیت رام رہیم اور چار دیگر مجرموں کو رنجیت سنگھ قتل کیس میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ گرمیت رام رہیم اور چار دیگر کو اس کیس میں مجرم قرار دیا گیا۔ پیر کے روز سماعت میں رام رہیم ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ پیش ہوا۔
رنجیت سنگھ قتل کیس میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے ڈیرہ سچاسوداسربراہ رام رہیم سمیت 5 افراد کو مجرم قرار دیا ہے۔ اس کیس میں ملزم رام رہیم اور کرشنا کمار ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پیش ہوئے۔19 سال پرانے اس کیس میں 12 اگست کو دفاع کے حتمی دلائل مکمل ہوئے اور فیصلہ محفوظ کرلیا گیاتھا۔ اب سزا کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں ڈیرہ سربراہ سمیت 5 افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے، ساتھ ہی 31 لاکھ جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس کیس میں سزا کا اعلان 12 اکتوبر کو ہونا تھا ، لیکن عدالت نے اپنا فیصلہ 18 اکتوبر تک محفوظ کر لیا تھا۔قابل غور ہے کہ سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ گرمیت رام رہیم اور چار دیگر افراد کو ڈیرہ سے گرفتار کیا ہے۔
سابق منیجر رنجیت سنگھ کے قتل کیس میں اسے آئی پی سی کی دفعہ 302 ، 120 بی کے تحت سزا سنائی گئی ہے۔منگل 12 اکتوبر کو سزا کے اعلان کے پیش نظر پنچ کولہ کے ڈپٹی کمشنر پولیس نے ضلع میں دفعہ 144 نافذ کر دیاتھا۔
جان و مال کے نقصان کے خدشے کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ کی گئی ،تاکہ ضلع میں کسی بھی قسم کی کشیدگی اور نقض امن کی صورتحال قائم نہ ہو ۔ قابل غور ہے کہ ڈیرہ میں ایک سادھوی کے ساتھ زیادتی کے الزامات سامنے آنے کے بعد ڈیرہ کے سربراہ گرمیت رام رہیم کے ساتھ ڈیرہ منیجر رنجیت سنگھ کے اختلافات بڑھ گئے تھے۔
اس کے بعد 10 جولائی 2002 کو اسے ضلع کروشیترا کے ایک گاؤں میں اس کے کھیتوں کے قریب گولی مار دی گئی تھی۔گرمیت رام رہیم فی الحال روہتک ضلع کی سناریا جیل میں قید ہے۔ 25 اگست 2017 کو سی بی آئی کی ایک خصوصی عدالت نے اسے دو سادھویوں کے ساتھ زیادتی کا مجرم قرار دیا تھا اور اسے 20 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ 17 جنوری 2019 کو مذکورہ سی بی آئی عدالت نے اسے سرسا صحافی رام چندر چھترپتی کے قتل میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔



