انسان بنیادی طور پر دو ایسی ضروریات کا محتاج ہے جو جسم و روح کے تقاضوں کو پورا کرے ۔ ایک مادی ضرورت جو انسانی زندگی کے لئے ضروری ہے۔دوسری روحانی ضرورت ۔ اللہ تعالی کی ربوبیت عامہ کا تقاضہ ہے کہ وہ انسانوں کی دونوں ضرورتوں کو پورا کرے۔
مادی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اس نے زمین و آسمان میں بے شمار وسائل کا خزانہ ودیعت کردیا ہے۔ پوری کائنات انسان کیلئے اپنا دامن پھیلائے ہوئے ہیں اور اپنے سینے سےوہ وسائل اگل رہی ہے جو کڑوروں اربوں لوگوں کی ضروریات پوری کررہے ہیں۔ہوا،پانی،غذا ،عمارتیں ،سڑکیں ، برتن، فرنیچر وغیرہ کیلئے لگنے والا سارا سامان اسی زمین پر موجود ہے۔
جیسے انسانوں کیلئے پیدا کیا گیا اور ان کے دست ریز کر دیا گیا۔اسی بات کواللہ نے اپنی آیت میں بیان فرمائی ۔سورہ الجاشیہ آیت نمبر 13 میں اللہ فرماتا ہے۔” سخرلکم مافی السموات و مافی الارض جمیعامنہ ۔” اس نے زمین و آسمان کی ساری چیزوں کو تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے سب کچھ اپنے پاس ۔
دوسری بنیادی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالی نے اپنے نبی بھیجیے اور اپنی کتابیں بھیجی۔ جنھوں نے ہمیں زندگی گزارنے کے سنہرے اُصول بتائے ۔محمدﷺ کے ذريعے جو طریقہ زندگی ہمیں ملی اسے ہم شریعت محمدیﷺ کہتے ہیں۔ اسلامی شریعت فطری تقاضوں کو پورا کرتی ہے یہ ہماری دینی ودنیاوی ،انفرادی اور اجتماعی ضرورتوں کو پورا کرتی ہے۔
جس طرح ایمان لا کر عبادات انجام دینی ہے اسی طرح نکاح، طلاق،خلع اور وراثت وغیرہ کو بھی اسلام کے مقررکردہ ضابطوں کے مطابق ان پر عمل کرنا ہے۔پس( اے نبی اور نبی کے پیروو ) یک سو ہوکر اپنا رخ اس دین کی سمت میں جما دو ۔قائم ہو جاؤ اس فطرت پر جس نے اللہ تعالی نے انسان کو پیدا کیا ہے۔
اسلامی واحد مذہب ہے جس نے ہر رشتے کی پاسداری کو ملحوظ رکھا اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ کسی کا حق نہ مارا جائے کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو کسی کا دل نہ دکھے مصیبتوں میں ایک ہے دوسرے کے کام آیا جائے یہی وجہ ہے کہ رشتے کے حقوق و فرائض بیان کئے چاہیے وہ والدین ہو اولاد ہو بیوی شوہر ہو یا بھائی بہن ہو یاپڑوسی و مسافر ۔سب کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی گی۔
آج اسلامی شریعت سے ناواقفیت کی بنا پر اور ہندوستانی سماج میں رائج ہندوانہ رسم و رواج اور مغربی طرز فکر سے ہمیں اسلام سے بہت دور کر دیا ہے۔ آج ہماری زندگیاں غیر شرعی طریقے سے گزر رہی ہے۔ ہم اپنی بیٹیوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیتے ہم شادی میں غیر شرعی رسم و رواج کو دھڑلے سے مناتے ہیں۔ جہیز حرام ہیں ہم اسکی مانگ کرتے ہیں۔
مہر فرض ہے لیکن وہ نہیں دیا جاتا ۔بلکہ شوہر کے مرنے کے بعد بیوی سے اسے معاف کرایا جاتا ہے غیر شرعی طریقے سے طلاق دی جاتی ہے یا خلع لیا جاتا مختصرا آج خاندان انتشار کا شکار ہے کیونکہ ہم اس کے رحمتوں اور برکتوں سے ناواقف ہے ہم جانتے ہیں کہ عرب کی بدو جاھل قوم ایک تمدن سے آشنا دنیا کے حکمران قوم بن گئی تھی یہی وجہ تھی کہ اس نے شریعت پر عمل کیا اور اپنی عائلی اور معاشرتی زندگی کو سنوارا ۔
اسلام دین فطرت ہے اس کی تعلیمات میں حسن ہے فلاح ہے دنیا کا کوئی نظام اسلامی نظام کے برابری نہیں کرسکتا۔ لیکن بہت سے لوگ اسلامی نظام سے نا واقف ہے ۔ جو واقف ہے وہ عمل نہیں کرتے۔اسلام کا جو حصہ ہم کو آسان اور اچھا لگتا اس پر عمل کرتے۔ اورباقی حصہ چھوڑ دیتے۔
عبادات ہمارے دین کا ایک چوتھائی حصہ ہے۔جب کہ شریعت دین کا تین چوتھائی حصہ ہے۔ شریعت پر عمل کیے بغیر ہم اچھے معاشرے کا تصور نہیں کرسکتے۔نکاح سے نئ زندگی کی شروعات ہوتی ہے۔نکاح کے موقع پر کئ غیر شرعی رسم و رواج ہوتے ہیں ۔ جہیز کا لینا دیناہوتا ہے۔
اگر جہیز کی لعنت بند ہو جاۓ تو بیٹوں کو وراثت میں حصہ ملنے لگے گا۔ غیر شرعی طریقوں سے اجتباب سے وقت اور پیسے کا ضیاع نہیں ہوگا۔خواتین کو ان لعنتوں کو ختم کرنے کیلئے آگے آنا ہوگا کیونکہ خواتین ٹھان لے تو اسے کوئی روک نہیں سکتا۔یقینا تبدیلی آ جاۓ گی۔
خواتین کی ذمہ داری ہے کہ شریعت کے احکام پر شیان شان عمل کرے ۔ شریعت کو اپنی زندگی میں نافذ کرے اپنے خاندان کو اسلامی تہذیب کا نمونہ بتائے اور اللہ کے حکم کے مطابق اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائیں ۔
شریعت پر عمل کرکے ہم ایک مثالی معاشرے کو وجودمیں لا سکتے ہیں ۔ جس کی رحمتیں اور برکتیں مسلم معاشرہ ہی نہیں بلکہ پوراملک دیکھے گا۔
٭٭٭



