قومی خبریں

آسارام کے بیٹے کو سپریم کورٹ سے لگا بڑا دھچکا ریپ کیس میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں نارائن سائی

نئی دہلی،20؍اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)آسارام کے بیٹے نارائن سائی کوسپریم کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ ریپ کیس میں دو ہفتے کے فرلو آرڈر کو سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے گجرات ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا ہے۔ سائی کو عمر قید کی سزاملی۔ 12 اگست کو سپریم کورٹ نے آسارام کے بیٹے نارائن سائی کو دئیے گئے دو ہفتوں کے فرلو آرڈر پر روک لگا دی تھی ، جو 2014 کے ریپ کیس میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔

Join Urdu Duniya WhatsApp Group.

ایس جی تشار مہتا گجرات حکومت کی جانب سے گجرات ہائی کورٹ کے جون کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے پیش ہوئے۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ ہائیکورٹ کے فرلو دینے کے حکم کو روک دیا جائے۔ عدالت میں جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ نے گجرات حکومت کی درخواست پر ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگا دی۔

گجرات حکومت کی جانب سے پیش ہوئے ایس جی تشار مہتا نے کہا تھا کہ سائی پر سنگین الزامات ہیں۔ اس کیس کے گواہ پہلے ہی مارے جا چکے ہیں۔ پولیس افسران اور میڈیکل افسران کو پہلے بھی رشوت دی جاچکی ہے ۔

پہلے جب اس کی ماں بیمار تھی تو ہم نے اس کے فرلو کی مخالفت نہیں کی تھی ، لیکن اس بار یہ مناسب نہیں ہے۔ نارائن سائی کے وکیل نے کہا تھا کہ فرلو حاصل کرنے کے لیے کسی وجہ کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ پیرول نہیں ہے جو سخت ہے۔ فطری مجرموں کو فرلو سے محروم کیا جاتا ہے۔

میرا موکل فطری مجرم نہیں ہے۔ اس کے خلاف صرف ایک ایف آئی آر ہے۔ دراصل گجرات ہائی کورٹ نے نارائن سائی کو دو ہفتوں کے لیے فرلودینے کا حکم دیا تھا ، دراصل زیریںعدالت نے آسارام کے بیٹے نارائن سائی کو گجرات کے سورت میں ایک آشرم میں دو بہنوں کے ساتھ عصمت دری کے معاملے میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

اس معاملے میں شکایت سال 2013 میں درج کی گئی تھی۔ اکتوبر 2013 میں نارائن سائی پر سورت کی ایک خاتون نے ریپ کا الزام لگایا تھا۔ متاثرہ خاتون نارائن سائی کے آشرم کی سادھوکاتھی اور اس نے آشرم میں ہی نارائن سائی پر عصمت دری کا الزام لگایا تھا۔ متاثرہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ نارائن سائی کی جانب سے اسے اور اس کے والد کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔

دسمبر 2013 میں نارائن سائی کو ہریانہ کے کوروکشتر کے پپلی علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button