کل رات 1 بجے تک اسٹیٹس رپورٹ کا انتظار کرتے رہے
نئی دہلی،20؍اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)لکھیم پور کھیری میں 3 اکتوبر کو ہونے والے تشدد معاملے کی عدالتی نگرانی میں جانچ کی درخواست پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے ، جو کہ چیف جسٹس این وی رمنا ، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہما کوہلی کی بنچ کر رہی ہے۔ یوپی حکومت کی جانب سے ہریش سالوے نے کہا کہ ہم نے بند لفانے میں اسٹیٹس رپورٹ داخل کی ہے۔ چیف جسٹس نے یوپی حکومت پر برہمی کا اظہار کیا۔
Join Urdu Duniya WhatsApp Group.
چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں آپ کی اسٹیٹس رپورٹ ابھی ملی ہے۔ آپ کو کم از کم 1 دن پہلے فائل کرنا چاہیے۔ ہریش سالوے نے کہا کہ آپ نے کیس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کر دیجیے۔ عدالت نے یوپی حکومت کے اس مطالبے کو ٹھکرا دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم کل رات ایک بجے تک انتظار کرتے رہے کہ کچھ مواد ملے۔ اسٹیٹس رپورٹ آخری لمحات میں دائر کی گئی۔
چیف جسٹس نے یوپی حکومت سے پوچھا کہ آپ نے 44 لوگوں کی گواہی لی ہے ، باقی لوگوں کی کیوں نہیں لی ۔ سالوے نے جواب دیا کہ فی الحال یہ عمل جاری ہے۔ سالوے نے کہا کہ جرائم کے دو معاملے ہیں۔ ایک کیس کسانوں پر گاڑی چڑھانے کا اور دوسرا لنچنگ کا۔ پہلے کیس میں دس افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔چیف جسٹس نے پوچھا کہ کتنے لوگ عدالتی تحویل میں ہیں اور کتنے پولیس کی حراست میں ہیں؟
یوپی حکومت کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ 4 ملزم پولیس حراست میں ہیں اور 6 ملزم پہلے پولیس حراست میں تھے اور اب عدالتی تحویل میں ہیں۔عدالت نے یوپی حکومت سے پوچھا کہ باقی ملزمان جو اس وقت عدالتی تحویل میں ہیں ، کیا ان کو پولیس کی تحویل کی ضرورت نہیں ہے؟
یوپی حکومت نے کہا کہ 70 سے زیادہ ویڈیوز ملی ہیں۔ یوپی حکومت نے کہا کہ کرائم سین کو پہلے ہی دوبارہ بنایا جا چکا ہے۔ اس سے پوچھ گچھ بھی کی گئی ہے۔ عدالت نے پوچھا کہ متاثرین کے مجسٹریٹ کے سامنے 164 کے بیان کا کیا ہوا؟
آپ پولیس سے کہیں کہ وہ جلد از جلد 164یعنی مجسٹریٹ کے سامنے بیان درج کرائیں،چیف جسٹس نے کہا کہ گواہوں کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ اس معاملے میں اگلی سماعت 26 اکتوبر کو ہوگی۔



