
کورونا کا ٹیکہ لگنے کے بعد تلنگانہ میں ڈرائیور کی موت ، پنجاب میں آشا ورکر داخل علاج
نئی دہلی :(ایجنسیاں)کورونا ویکسین دینے کی مہم کے دوران (ضمنی اثرات)سائڈ افیکٹ کی اطلاعات آرہی ہیں۔ تلنگانہ میں ایک ایمبولینس ڈرائیور کی کورونا ویکسین لگنے کے بعد موت ہوگئی۔ جبکہ پنجاب کے فیروز پور میں ایک آشا کارکن کی طبیعت خراب ہوگئی ہے۔ تاہم ڈاکٹروں کو ابھی تک یقین نہیں ہے کہ آیا یہ ضمنی اثرات ویکسین کی وجہ سے ہیں یا نہیں۔فیروز پور سے تعلق رکھنے والی آشا کارکن 35سالہ بندیاکو کورونا ویکسین کی ایک خوراک لینے کے بعد سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں بدھ کے روز فیروز پور کے سول اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے ، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
بندیا کا کہنا ہے کہ جب وہ ویکسین لینے کے بعد گھر گئی تو اچانک اس کے بلڈ پریشر کی سطح کم ہوناشروع ہوگئی۔ پہلے وہ ایک نجی کلینک گئی ، پھر اس کے بعد سرکاری اسپتال آئیں۔ فیروز پور کے سی ایم او ڈاکٹر ششی بھوشن کا کہنا ہے کہ اس کی حالت مستحکم ہے ، ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ویکسین کی وجہ سے آشا کارکن کو پریشانی ہوئی ہے۔اور تلنگانہ کے نرمل ضلع میں ایک ایمبولینس ڈرائیور کورونا ویکسین کی خوراک لینے کے بعد ہلاک ہوگیا۔
انہوں نے 19 جنوری کو صبح 11.30 بجے کورونا کا ٹیکہ لگوایا تھا۔ اسے رات کے وقت سینے میں تکلیف ہونے لگی اور 20 جنوری کی صبح اس کا انتقال ہوگیا۔اس خاندان کو شک ہے کہ اس کی موت ٹیکہ لگنے سے ہوئی ہے ، لیکن ضلعی صحت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ابتدائی نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اس موت کا تعلق ویکسین سے نہیں ہے۔ دریں اثنا محکمہ صحت نے بتایا کہ ضلعی اے ای ایف آئی کمیٹی اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور وہ اپنی رپورٹ ریاستی اے ای ایف آئی کمیٹی کو پیش کرے گی۔



