بین ریاستی خبریںسرورق

نواب ملک نے پیش کیا نکاح نامہ تو سمیر وانکھیڑے کا جواب ماں کی خوشی کے لیے کیا

نئی دہلی،27؍اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ممبئی کروز ڈرگس پارٹی کیس کی تحقیقات کرنے والے این سی بی افسر سمیر وانکھیڑے نے آج مہاراشٹرا کے وزیر نواب ملک کے الزامات کا جواب دیا ہے۔ دراصل نواب ملک نے آج نکاح نامہ شیئر کیا جس میں ان کا نام سمیر داؤد وانکھیڑے لکھا گیا تھا۔

نواب ملک کے الزام پر سمیر نے جواب دیا کہ میں پیدائشی طور پر ہندو ہوں اور دلت خاندان سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں آج بھی ہندو ہوں۔ مذہب کبھی نہیں بدلا۔ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور مجھے اس پر فخر ہے۔

میرے والد ہندو اور والدہ مسلمان تھیں۔ میں دونوں سے محبت کرتا ہوں،میری والدہ مسلمان تھیں اور وہ چاہتی تھیں کہ میں مسلم طریقے سے شادی کروں، اس لیے میں نے اپنی والدہ کی خوشی کے لیے شادی کر لی، لیکن اسی مہینے میں نے شادی کو اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت رجسٹر کروایا کیونکہ جب دو مختلف مذاہب کے لوگ شادی کرتے ہیں تو اسپیشل میر ج ایکٹ کے تحت رجسٹرڈہوتی ہے۔

اس میں مذہب نہیں بدلتا۔ بعد میں قانونی طور پر طلاق بھی ہو ا ہے۔ اگر میں نے کوئی مذہب تبدیل کیا ہے تو نواب ملک اس کا سرٹیفیکیٹ دکھائیں۔واضح رہے کہ نواب ملک نے سمیر وانکھیڑے سے متعلق نکاح نامہ کو آج ٹوئٹر پر شیئر کیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ یہ سمیر داؤد وانکھیڑے کی شادی ہے۔

ان کی شادی ڈاکٹر شبانہ قریشی سے ہوئی تھی۔ 7 دسمبر 2006 کو سمیر داؤد وانکھیڑے اور شبانہ قریشی کی شادی لوکھنڈ والا کمپلیکس، اندھیری ویسٹ ممبئی میں ہوئی۔ نواب ملک نے اس جوڑے کی تصویر بھی شیئر کی ہے۔ نیز نواب ملک کا کہنا ہے کہ سمیر وانکھیڑے کے والد ہندو دلت تھے جبکہ ان کی والدہ مسلمان تھیں۔

شادی کے بعد ان کے والد نے مسلم مذہب اختیار کیا۔ جب کوئی مسلم یا کوئی اور مذہب اختیار کرتا ہے تو اس کا اپنی پرانی ذات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ لیکن سمیر وانکھیڑے نے ریزرویشن کا استعمال کیا۔ جعلی سرٹیفکیٹ کے ذریعے نوکری حاصل کرکے غریبوں کا حق مارا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button