قومی خبریں

سپریم کورٹ نے کیرالہ کے 2 طالب علموں کو ماؤنوازوں سے تعلق پر بڑی راحت دی، ایک کو ضمانت

نئی دہلی،28اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے ماؤنوازوں سے مبینہ تعلق کے الزام میں نومبر 2019 میں قومی تحقیقاتی ایجنسی کے ذریعہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA)  کے تحت گرفتاردو طالب علموں میں سے ایک طہ فیصل کوجمعرات کو ضمانت دے دی۔

جسٹس اجے رستوگی اور اے ایس اوکا کی بنچ نے کیرالہ ہائی کورٹ کے اس حکم کو مسترد کر دیا جس نے فیصل کی ضمانت منسوخ کر دی تھی۔سپریم کورٹ نے دوسرے ملزم ایلن شعیب کو ضمانت دینے کے ٹرائل کورٹ کے حکم کو برقرار رکھنے کے کیرالہ ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے والی مرکزی حکومت کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کو بھی خارج کر دیا۔

ہائی کورٹ کے ایک ڈویڑن بنچ نے اس کیس میں گرفتار دوسرے طالب علم شعیب کی کم عمری اور اس کی صحت کے پیش نظر ضمانت منسوخ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے 23 ستمبر کو اس معاملے میں اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔فیصل اور شعیب بالترتیب صحافت اور قانون کے طالب علم ہیں۔ وہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیامارکسسٹ (سی پی آئی-ایم) کی برانچ کمیٹی کے رکن تھے۔

انہیں2 نومبر 2019 کو کوزی کوڈ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ بائیں بازو کی حکومت والی ریاست میں ان کی گرفتاری پر کڑی تنقید کی گئی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button