بین الاقوامی خبریں

لاؤس میں حکام نے ایشیا کی تاریخ میں منشیات کی سب سے بڑی مقدار ضبط کر لی۔

بنکاک،28اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)لاؤس میں حکام نے براعظم ایشیا کی تاریخ میں منشیات کی آج تک کی سب سے بڑی مقدار ضبط کر لی۔ اقوام متحدہ کے مطابق پولیس نے تقریباً چھپن ملین نشہ آور میتھ گولیوں اور ڈیڑھ ٹن سے زائد کرسٹل میتھ کو قبضے میں لے لیا۔تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک سے جمعرات اٹھائیس اکتوبر کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق یہ ایشیا میں کسی بھی کارروائی میں آج تک قبضے میں لیے گئے غیر قانونی نشہ آور مادوں کی سب سے بڑی مقدار ہے۔

اس امر کی اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بھی تصدیق کر دی۔یہ منشیات جنوبی مشرقی ایشیا کے مقابلتاً بہت تھوڑی آبادی والے ملک لاؤس میں برآمد کی گئیں، جنہیں بیئر ٹرانسپورٹ کرنے والے ایک ٹرک میں چھپایا گیا تھا۔اقوام متحدہ کے منشیات اور جرائم کی روک تھام کے دفتر یو این او ڈی سی کے علاقائی نمائندے جیریمی ڈگلس نے بنکاک میں بتایا کہ یہ منشیات لاؤس میں رات گئے پکڑی گئیں۔

ان میں 55.6 ملین میتھ گولیاں اور 1537 کلو گرام کرسٹل میتھ شامل ہیں۔جیریمی ڈگلس نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں لاؤس ایشیا بالخصوص جنوب مشرقی ایشیا میں منشیات کی اسمگلنگ کے لیے گیٹ وے بن چکا ہے۔ خاص طور پر میانمار کی بدامنی کی شکار ریاست شان سے تھائی لینڈ اور اس سے بھی آگے دیگر ممالک تک منشیات کی اسمگلنگ کے لیے لاؤس کلیدی اہمیت کا حامل ملک ہے۔

منشیات کی بین الاقوامی بلیک مارکیٹ میں قبضے میں لے لیے گئے ان نشہ آور مادوں کی مجموعی مالیت کروڑوں ڈالر بنتی ہے۔ لاؤس پولیس نے یہ منشیات ملک کے شمالی صوبے بوکیو میں ایک ایسے ٹرک سے برآمد کیں، جس پر بظاہر بیئر کے کریٹ لدے ہوئے تھے۔ لاؤس کے اس صوبے کی سرحدیں میانمار اور تھائی لینڈ دونوں سے ملتی ہیں۔اقوام متحدہ کے منشیات اور جرائم کی روک تھام کے دفتر کے علاقائی نمائندے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ان منشیات کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ یہ پچھلے پورے سال کے دوران لاؤس میں پکڑی گئی میتھ گولیوں کی تعداد کا تین گنا بنتی ہے۔

اس کے علاوہ جس تقریباً 1540 کلو گرام کرسٹل میتھ کو بھی پولیس نے اپنے قبضے میں لے لیا، وہ لاؤس میں گزشتہ برس ضبط کی گئی کرسٹل میتھ کی مقدار کے تقریباً ایک تہائی کے برابر ہے۔ پولیس نے ان منشیات کو قبضے میں لینے کے علاوہ دو افراد کو گرفتار بھی کر لیا۔

لاؤس میں جس علاقے سے پولیس نے یہ منشیات برآمد کیں، وہ اس خطے میں تین ممالک کی سرحدیں آپس میں ملنے اور منشیات کی بہت زیادہ اسمگلنگ کی وجہ سے ’سنہری مثلث‘ کہلاتا ہے۔ اسی ’گولڈن ٹرائی اینگل‘ کے راستے ہر سال مجموعی طور پر کیمیائی طور پر تیار کردہ اربوں ڈالر مالیت کی منشیات اسمگل کی جاتی ہیں۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ لاؤس میں اتنی بڑی مقدار میں منشیات پکڑے جانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کے فوری بعد بنکاک اور کئی دیگر بڑے ایشیائی شہروں میں ان نشہ آور گولیوں اور کرسٹل میتھ کی قیمتیں بہت زیادہ ہو گئیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button