بین الاقوامی خبریں

یہودی بستیوں کی تعمیر ’جنگی جرم‘، مزاحمت جاری رکھیں گے:حماس حازم قاسم

غزہ ،28اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اسلامی تحریک مزاحمتحماس نے فلسطین کے دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور نئے رہائشی یونٹس کی منظوری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جنگی جرم قرار دیا ہے۔حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ صیہونی حکام کی طرف سے مغربی کنارے میں تین ہزار سے زائد گھروں کی تعمیر کی منظوری ایک حقیقی اور جنگی جرم ہے۔

یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہودی بستیوں کی توسیع کا رویہ تمام صہیونی حکومتوں میں میں یکساں ہے۔حازم قاسم نے ایک پریس بیان میں مزید کہا کہ مکانات کی تازہ منظوری مقامی آبادی کی نقل مکانی اور زمین پر قبضے کے ذریعے فلسطینیوں کی موجودگی کے خلاف صیہونی جنگ کے تسلسل کا حصہ ہے

انہوں نے نشاندہی کی کہ مغربی کنارے میں بستیوں کی تعمیر میں اضافے کا صہیونی فیصلہ ایک بار پھر قابض دشمن کی طرف سے فلسطینی قوم کے حقوق کی توہین اور ان کے دیرینہ حقوق سے انکار کو بے نقاب کرتا ہے۔ حالانکہ فلسطینی قوم کو تمام بین الاقوامی قوانین بنیادی حقوق کی ضمانت دیتے ہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ مغربی کنارے میں آبادکاری کے جرائم میں اضافے کا مقابلہ ان منصوبوں کے خلاف ہر قسم کی مزاحمت کو فروغ دے کر کرنا چاہیے۔

ان منصوبوں کو کامیاب نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ مزاحمت کا تعاقب بند کر کے مزاحمتی قوتوں کو غرب اردن میں مکمل آزادی فراہم کرے اور اسرائیلی ریاست کے ساتھ جاری نام نہاد کورآڈی نیشن کا سلسلہ بند کیا جائے۔


یورپی ممالک کا اسرائیل سے مقبوضہ علاقوں میں تعمیراتی منصوبوں کو روکنے کا مطالبہ

جرمنی سمیت بارہ یورپی ممالک نے بھی مقبوضہ مغربی کنارے پر یہودی آباد کاروں کے لیے تین ہزار مکانات کی تعمیر کی مخالفت کی ہے۔ امریکہ پہلے ہی مقبوضہ علاقوں میں تعمیرات کے نئے منصوبے پر تشویش ظاہر کر چکا ہے۔جرمنی اور یورپ کے دیگر گیارہ ممالک نے 28 اکتوبر جمعرات کے روز اسرائیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے پر یہودی آباد کاروں کے لیے بستیوں کی تعمیر کے اپنے منصوبے کو روک دے۔اس حوالے سے بلجیم، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، آئرلینڈ، اٹلی، ہالینڈ، ناروے، پولینڈ، اسپین اور سویڈن کی وزارت خارجہ نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے، جس میں فلسطین کے تمام مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے تعمیراتی کاموں کی مخالفت کی گئی ہے۔

ایک درجن یورپی ممالک نے اپنے مشترکہ بیان میں کہاکہ ہم اسرائیل کی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ مغربی کنارے میں تقریباً تین ہزار مکانات کی تعمیر کے منصوبے کو آگے بڑھانے کے اپنے فیصلے کو واپس لے لے،اس بیان میں مزید کہا گیا کہ ہم مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آبادکاری کی توسیع کی اسرائیلی پالیسیوں کی اپنی سخت مخالفت کا اعادہ کرتے ہیں۔

اس سے جہاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے وہیں اس سے دو ریاستی حل کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔یورپی ممالک نے فریقین پر ایسے اقدام کرنے پر زور دیا جس سے کشیدگی میں کمی کی جا سکے۔ بیان میں کہا گیاکہ ہم فریقین سے تعاون کو بہتر بنانے اور تناؤ کو کم کرنے کے لیے حالیہ مہینوں میں جو اقدامات اٹھائے گئے انہیں مزید آگے بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

بیان میں زور دے کر کہا گیا کہ ہم اعتماد کی بحالی اور امن کو فروغ دینے کے لیے ضروری حالات پیدا کرنے کے مقصد سے، اقوام متحدہ کی قرارداد 2334 کو اس کی تمام دفعات کے ساتھ نافذ کرنے کے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتے ہیں۔

چند روز قبل اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے پر یہودی آباد کاروں کے لیے تقریباً تین ہزار نئے مکانات کی تعمیر کے منصوبے کو آگے بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔ امریکہ اسرائیل کے اس اقدام پر پہلے ہی تنقید کر چکا ہے۔

بائیڈن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے یہ اقدامات خطے میں اشتعال انگیزی اور کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں سے مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔پونے پانچ لاکھ سے بھی زیادہ اسرائیلی یہودی ان مقبوضہ زمینوں پر بسائی گئی بستیوں میں پہلے سے ہی آباد ہیں۔ ان فلسطینی علاقوں پر اسرائیل جنگ کے بعد سے ہی قابض ہے، جبکہ فلسطینیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ علاقے ان کی مستقبل کی ریاست کا حصہ ہیں۔

بین الاقوامی قوانین کے مطابق اسرائیل کی ان بستیوں کو غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔فلسطین کے وزیر اعظم محمود شطّیح نے حال ہی میں اپنے ایک بیان میں واشنگٹن سے بستیوں کی توسیع کے معاملے میں اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی بات کہی تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button