بین الاقوامی خبریں

نفتالی کو لیپڈ کے وزیراعظم بننے سے قبل اسرائیلی حکومت کی تحلیل متوقع: رپورٹ

مقبوضہ بیت المقدس،28اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے توقع ظاہر کی ہے کہ اگست 2023میں یائر لیپڈ کے وزیر اعظم بننے سے قبل ہی موجودہ حکومت ختم ہو جائے گی۔لیپڈ اس وقت اسرائیل کے وزیر خارجہ ہیں۔ اقتدار کی باری سے متعلق طے پائے گئے معاہدے کی رو سے انہیں اگست 2023میں وزارت عظمی کا منصب سنبھالنا ہے۔

اسرائیلی چینل 12 کے مطابق نفتالی بینیٹ کا کہنا ہے کہ میرے اندازے کے مطابق اگلی باری نہیں آ سکے گی۔

بجٹ کی منظوری سمیت مختف وجوہات کی بنا پر اس بات کا بڑا امکان ہے کہ حکومت تحلیل کر دی جائے۔چینل نے بتایا کہ بینیٹ نے یہ بیان گذشتہ ماہ ایک بند کمرے کے اجلاس میں کہی۔نفتالی بینیٹ کے دفتر نے اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کو دیئے گئے بیان میں اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم اقتدار کی باری سے متعلق معاہدے کا پورا احترام کریں گے۔ دفتر کے مطابق بجٹ منظور ہو گا اور شراکت داری جاری رہے گی۔

نفتالی بینیٹ نے یائر لیپڈ کو ایک شان دار وزیر خارجہ قرار دیا اور ان کے ساتھ باہمی شراکت داری کو سراہا۔ بینیٹ نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ پر کئے گئے ٹویٹ میں کہا کہ حالیہ رپورٹیں میرے موقف کی عکاس نہیں اور یقینا یہ میری سمجھوتے کی پاسداری کی حقیقت کی بھی عکاسی نہیں کر رہی ہیں۔

دوسری جانب لیپڈ نے اپنی ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ انہوں نے بینیٹ سے ملاقات کی ہے۔ لیپڈ نے اپنے اور بینیٹ کے بیچ پھوٹ پیدا کرنے کی واضح کوششوں کو مسترد کر دیا۔

لیپڈ کے مطابق ان کا اور وزیراعظم کا مقصد ایک ہے اور وہ ہے بجٹ کی منظوری اور حکومت کو تقویت دینا۔موجودہ حکمراں اتحاد کے باقی رہنے کے لیے ضروری ہے کہ آئندہ ماہ 14 نومبر تک 2021کا بجٹ منظور کر لے۔ اگر ایسا نہ ہو سکا تو اسرائیلی پارلیمنٹ خود ہی تحلیل ہو جائے گی۔ اس کے نتیجے میں نئے انتخابات کا انعقاد ہو گا۔


 اسرائیل کی فلسطینی علاقوں کی بجلی بند کرنے کی دھمکی

اسرائیلی حکام نے دھمکی دی ہے کہ اگر فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے دو سال قبل کے بجلی کے واجبات ادا نہ کیے تو آئندہ ہفتے سے غرب اردن کے علاقوں کو فراہم کی جانے والی بجلی بند کردی جائے گی۔عبرانی ٹی وی چینل ’کے اے این‘ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام نے فلسطینی اتھارٹی کو پیغام دیا ہے کہ وہ واجبات ادا کرے ورنہ آئندہ ہفتے روزانہ 4 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جائے گی اور لوڈ شیڈنگ آئندہ سال مارچ تک جاری رہے گی۔
ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے ذمہ بجلی کے ایک ارب شیکل باقی ہیں۔ یہ رقم امریکی کرنسی میں 15 کروڑ 70 لاکھ ڈالر بنتی ہے۔خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی اسرائیل سے بجلی حاصل کرتی ہے۔ فلسطینیوں کو دی جانے والی اسرائیلی بجلی کا کچھ حصہ اسرائیل کی سرکاری پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی جبکہ کچھ نجی کمپنیوں کے ذریعہ دی جاتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

Back to top button