بین ریاستی خبریںسرورق

مہاکال مندر میں مسلم نوجوان کے ’درشن ‘ پر ہنگامہ، سنتوں کا احتجاج

اُجین،28اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جمعرات کو مہاکال مندر میں آئے ایک عقیدت مند کو لے کر دن بھر تنازعہ رہا۔ اس عقیدت مند کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو ئی تھی۔ بعد میں معاملہ ٹھنڈا ہونے پر مندر کمیٹی کو وضاحت دنی پڑی۔ دراصل ایک مسلم نوجوان ٹوپی پہن کر مہاکال مندر آیا تھا۔ کسی نے اس کی تصویر لے کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دی، پھر یہ تصویر ہندو متعصب افراد کے درمیان وائرل ہوگئی، اور ایک تنازعہ کھڑا کردیاگیا۔ یہ نوجوان مہاراشٹر سے آیا تھا اور خود کو مہاکال کا’ بھکت‘ بتا رہا تھا۔

مہاکال مندر کے احاطے میں ٹوپی اورمذہبی لباس میں کھڑے ایک نوجوان کی تصویر وائرل ہونے کے بعد سنتوں نے اس کی شدید مخالفت کی ، اس پر بات بڑھی۔ بڑھتے ہوئے تنازعہ کو دیکھتے ہوئے مندر کمیٹی نے مسلم ’بھکت‘ کا بیان جاری کر کے معاملہ کو رفع دفع کیا۔ اس کے باوجود سنتوں نے اس پر مندر کمیٹی کو سخت وارننگ دی ہے۔

مندر کے پجاری بالا گرو نے بتایا کہ اس عقیدت مند کا نام جنید ادریس شیخ ہے، وہ مہاراشٹر کے گوندیا ضلع کا رہنے والا ہے۔ وہ کئی سالوں سے اپنے دوست شمی جیسوال اور شیام کمار کے ساتھ یہاں آ تا رہا ہے ،وہ مندر کے تمام اصولوں پر عمل کرتا ہے اور ’دان‘ بھی دیتا ہے۔ آج بھی جنید ادریس شیخ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مندر آیا تھا۔

مندر انتظامیہ نے بتایا کہ یہاں تمام مذاہب کے پیروکار مہاکال کے ’درشن‘کیلئے آتے ہیں۔لیکن کئی بار شر انگیز عناصر سوشل میڈیا پر تصاویر اور مزخرافات کمنٹ کرکے سماجی ہم آہنگی کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے ، لیکن انتظامیہ نے بیچ میں آکر اس تنازعہ کو رفع دفع کیا ہے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button