بین ریاستی خبریں

’کروز پارٹی میں موجود داڑھی والا چلاتا ہے سیکس ریکٹ ،وانکھیڑے سے اچھے تعلقات‘نواب ملک کا نیا الزام

جانیں !وہ ’داڑھی والا‘ کون ہے، جس پر نواب ملک نے سیکس ریکیٹ کا الزام لگایا

ممبئی،29؍اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کروز ڈرگ کیس میں مہاراشٹر کے وزیر نواب ملک نے ایک بار پھر این سی بی افسر سمیر وانکھیڑے کو نشانہ بناتے ہوئے نئے الزامات لگائے۔ نواب ملک نے کروز پر جس داڑھی والے شخص کے ہونے اور اس کارروائی نہیں کئے جانے کا دعویٰ کیا تھا آج اس کا ظاہر کردیاہے ،ملک نے دعویٰ کیا کہ داڑھی شخص والا کاشف خان ہے۔

وہ فیشن ٹی وی کا سربراہ ہے، جو بڑے پیمانے پر سیکس ریکیٹ چلاتا ہے۔ اس دن کے پروگرام میں ایک پروگرام کاشف خان کی جانب سے بھی کیا گیا تھا۔

این سی پی لیڈر ملک نے سمیر وانکھیڑے سے سوال کیا کہ یہ داڑھی والا کون ہے؟ اسے گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ اب انہوں نے الزام لگایا کہ یہ داڑھی والا منشیات کا کاروبار کرتا ہے۔ سیکس ریکیٹ چلاتا ہے۔ سمیر وانکھیڑے کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات ہیں۔خیال رہے کہ کاشف نے ہی ’کارڈے لیا کروز‘ پر ڈرگ پارٹی کا اہتمام کیا تھا۔

وہ اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ پارٹی میں پہنچا تھا۔ کاشف کی گرل فرینڈ رکمنی ہڈا کی بندوق کے ساتھ کئی تصاویر بھی ہیں۔ کاشف کو کئی بار فیشن شوز میں دیکھا جا چکا ہے۔نواب ملک کا الزام ہے کہ کاشف خان کبھی تہاڑ جیل میں بھی بند تھا۔

کاشف خان اس وقت خبروں میں آیا تھا، جب وہ بھوپال میں ایف سیلون کے افتتاحی موقعہ پر شرکت کیلئے آیا تھا۔ اس دوران انہوں نے بھوپال کے لوگوں کی زبردست تعریف کی تھی۔نواب ملک نے سوال کیا کہ این سی بی کو اس بات کی تحقیقات کرنی چاہئے کہ سمیر وانکھیڑے اور ان کی ٹیم نے کاشف خان کو کروز سے باہر جانے کی اجازت کیوں دی؟۔

نواب ملک نے کہا ہے کہ کاشف خان پر ڈرگس پارٹی منعقد کرنے، پورنو گرافی ریکیٹ چلانے اور سیکس ریکیٹ چلانے کا ملزم بھی ہے

کیا اس کی گرفتاری سے راز کھلنے والے ہیں؟

کئی کیسز منظر عام پر آ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وانکھیڑے کے اہل خانہ کی جانب سے مجھے دھمکی دی گئی کہ عدالت میں کیس کریںگے ۔ اب کہا جا رہا ہے کہ نواب ملک کو عدالت جائیں۔ عدالت میں تووانکھیڑے صاحب گئے ہیں۔ ملک نے کہا کہ یہ افسر کیا سوچتا ہے،ملک کے شہریوں کے حقوق چھین لے گا۔

آزاد ہندوستان میں بولنے سے کسی کو نہیں روکا جا سکتا۔ سمیر وانکھیڑے جی خوف محسوس کر رہے ہیں۔ ان کے خاندان والوں نے وزیر اعلیٰ کو خط لکھا ہے – ہم مراٹھی ہیں، مدد کریں۔نواب ملک بھی اس ریاست کے شہری ہیں، تو کیا نواب ملک مراٹھی نہیں ہیں۔

بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے ملک نے کہا کہ کل بی جے پی ان کے ساتھ کھڑی تھی۔ طوطا پنجرے میں قید ہونے والا ہے۔ بی جے پی والے گھبرانے لگے ہیں۔ منشیات کیس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ کیس ریا چکرورتی سے شروع ہوا اور فلمی دنیا سے وابستہ لوگوں کی پریڈ لگائی گئی۔

بی جے پی کی طرف سے سازش ہورہی ہے۔ مہاراشٹرا حکومت کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔ملک نے کہا کہ میں نے ایک بار پھر این سی بی کے ڈی جی کو خط لکھا ہے کہ 26 کیسوں کی تحقیقات کی جائیں۔ خط کے ذریعے دوبارہ مطالبہ کروں گا۔ بے گناہوں کو انصاف ملے۔ فراڈ کرکے لوگوں کو اندر ڈالنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ملک نے کہا کہ یوگی جی نوئیڈا میں فلم سٹی بنانا چاہتے ہیں۔

بالی ووڈ کو بدنام کرکے ممبئی سے باہر لاسکتے ہیں؟ بہت سے مراٹھی لوگوں نے بالی ووڈ کو پہچان دی ہے۔ اگر یوگی ایسا سوچتے ہیں تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔

’پکڑنے والے فرار کا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں
آرین خان کی ضمانت کے بعد مہاراشٹر کے وزیر نے کہا

مہاراشٹرا حکومت کے وزیر نواب ملک نے ایک بار پھر نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے زونل ڈائریکٹر سمیر وانکھیڑے کو آرین خان سے متعلق کروز ڈرگ کیس کے حوالے سے نشانہ بنایا۔ آرین کی ضمانت کے بعد ملک نے جمعہ کو کہا کہ پکڑنے والے راہ فرار تلاش کر رہے ہیں۔ پکڑنے اور پکڑ کرلے جانے والے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔

اسی لیے میں نے کل لکھا تھا کہ پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست۔ ضمانت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جب تک کسی کا جرم ثابت نہیں ہو جاتا اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھنا بڑی ناانصافی ہے۔این سی پی لیڈر نے کہا کہ جن سیکشنز پر کیس بنایا گیا تھا، انہیں پہلے ہی فورٹ کورٹ میں ضمانت ملنی چاہئے تھی، لیکن این سی بی ہر بار مختلف دلائل پیش کرنے کا کام کرتی ہے۔

کیس کو پیچیدہ بنانے کا کام کرتی ہے۔ جھوٹ بولتی ہے۔ خاص طور پر وانکھیڑے کے آنے کے بعداین سی بی کی زیادہ سے زیادہ کوشش رہی ہے کہ لوگ سلاخوں کے پیچھے کیسے رہیں۔

اگر لوگ صحیح طریقے سے کام کریں گے تو یہ سارا معاملہ منسوخ ہو سکتا ہے۔ ہمیں ایسا لگتا ہے ۔ ایک مہینے کے اندر جس طرح سے حالات بدلے ہیں، اسے دیکھ کر ایسالگتا ہے کہ وانکھیڑے نے سارے ہتھکنڈے اپنا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وانکھیڑے نے پہلے کہا کہ میرے خاندان کو اس معاملے میں گھسیٹا جا رہا ہے،میری مردہ ماں کو گھسیٹا جا رہا ہے۔

میں نے کبھی ان کی (وانکھیڑے کی) ماں کا نام نہیں لیا اور نہ ہی کبھی عوامی سطح پر ان کی طرف انگلی اٹھائی۔ میں نے جو برتھ سرٹیفکیٹ ڈالا تھا اس میں داؤد وانکھیڑے ان کے والد کا نام ہے، میں نے بس اتنا ہی کہا۔ میں نے وانکھیڑے کی پہلی بیوی کی تصویر اس لیے لگائی تھی کیونکہ اسے پبلک کرنے کی خواہش ظاہر کی گئی تھی ۔

میں نے ان کی موجودہ بیوی کا نام کبھی نہیں لیا اور نہ ہی ان پر تبصرہ کیا۔ملک نے کہاکہ یہ لڑائی کسی کے مذہب کے خلاف نہیں، کسی کے خاندان کے خلاف نہیں، بلکہ یہ لڑائی ناانصافی کے خلاف ہے۔ 

متعلقہ خبریں

Back to top button