بین ریاستی خبریں

کالے زرعی قوانین کا اثر نظر آئے گا2-4 سال بعد : سرسوں کے تیل کی قیمت پوچھتے ہوئے لالو یادو نے کہا

نئی دہلی، یکم نومبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) آر جے ڈی صدر لالو پرساد یادو نے پیر کو سرسوں کے تیل کی قیمت پوچھتے ہوئے زرعی قوانین کے منفی اثرات کو نشانہ بنایا۔ لالو یادو نے ٹویٹ کر پوچھاکہ سرسوں کے تیل کی قیمت کیا ہے؟ کیا آپ اس سے خوش ہیں؟نیز انہوں نے لکھا ہے کہ انتظار کرو، تین کالے زرعی قوانین کا منفی اثر دو چار سال بعد زیادہ سمجھ میں آئے گا۔

 اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں

سرسوں کے تیل کی قیمت کیا ہے؟ کیا آپ اس سے خوش ہیں؟واضح رہے کہ اکتوبر کے آخری ہفتے میں مرکزی حکومت نے ایک بار پھر ریاستوں سے تیل کی بڑھتی قیمتوں پر قابو پانے کو کہا ہے۔ صارفین کے امور، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت نے قیمتوں میں کمی کو یقینی بنانے کے لیے ریاستوں کو خط لکھا ہے۔

تہوار وں کے پیش نظر مرکز کی جانب سے خوردنی تیل کی قیمتوں میں کمی کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اسٹیک ہولڈرز نے اسٹاک کو ذخیرہ کرنے کی گنجائش سے دو ماہ سے زیادہ نہ رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔حال ہی میں خوراک کے سکریٹری نے این ڈی ٹی وی کے ساتھ خصوصی بات چیت میں اعتراف کیا کہ گزشتہ سال کے مقابلے اس سال خوردنی تیل کی قیمت 50 فیصد سے زیادہ ہے۔

تاہم انہوں نے کہا تھا کہ گزشتہ چند دنوں میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔ سیکرٹری خوراک نے پیاز، ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ موسمی وجوہات قرار دیا ہے۔

وزارت خوراک کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سرسوں کا تیل گزشتہ ایک سال میں مہنگا ہو گیا ہے۔ ملک میں 21 اکتوبر 2020 کو سرسوں کے تیل کی اوسط خوردہ قیمت 128.96 فی لیٹر تھی جو 21 اکتوبر 2021 تک بڑھ کر 185.88 روپئے فی لیٹر ہو گئی یعنی 44.14 فیصد مہنگی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button