روٹی میکر نشان سے ٹی آرایس کو نقصان
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) حضورآباد ضمنی چناؤ میں اگرچہ 30 امیدوار میدان میں تھے لیکن اصل مقابلہ ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان رہا۔ کانگریس نے اپنا امیدوار ضرور کھڑا کیا تھا لیکن اس کا مقابلہ پرجا ایکتا پارٹی سے رہا۔ یہ بات کوئی مذاق نہیں بلکہ رائے شماری کے دوران حقیقی صورتحال پر مبنی ہے۔
صبح 8 بجے جیسے ہی ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان ایک، ایک ووٹ کیلئے کانٹے کی ٹکر دیکھی گئی۔ ہر راؤنڈ میں دونوں پارٹیوں کی مسابقت دیکھی گئی اور کانگریس امیدوار کا دور دور تک پتہ نہیں تھا۔ کانگریس نے ضمانت بچانے کیلئے مساعی کی لیکن رائے شماری کے دوران کانگریس امیدوار بی وینکٹ کا مقابلہ پرجا ایکتا پارٹی کے امیدوار ایس سریکانت سے رہا۔
کانگریس امیدوار اور پرجا ایکتا پارٹی امیدوار کے ووٹوں میں ہر راؤنڈ میں کوئی زیادہ فرق نہیں تھا۔ پہلے راؤنڈ میں کانگریس کو 119 ووٹ ملے جبکہ پرجا ایکتا پارٹی کو 122 ووٹ حاصل ہوئے۔ دوسرے راؤنڈ میں کانگریس کو 220 جبکہ پرجا ایکتا پارٹی کے حق میں 158 ووٹ شمار کئے گئے۔
مبصرین کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ حضورآباد میں دو مقابلے چل رہے ہیں ایک مقابلہ ٹی آر ایس اور بی پی تو دوسرا کانگریس اور پرجا ایکتا پارٹی کے درمیان ہے۔ اسی دوران پرجا ایکتا پارٹی کے امیدوار کو روٹی میکر کا نشان ملا تھا جو ٹی آر ایس کیلئے نقصاندہ ثابت ہوا۔ ٹی آر ایس نے اس نشان کو حذف کرنے کا الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا لیکن کمیشن نے پرجا ایکتا پارٹی کو یہ نشان الاٹ کیا ۔
کار سے مماثلت کے نتیجہ میں روٹی میکر نشان کو کانگریس کے مساوی ووٹ حاصل ہوئے۔ ٹی آر ایس نے روٹی میکر کے علاوہ ٹریکٹر اور کار سے مماثلت رکھنے والے دیگر انتخابی نشانات کو حذف کرنے کی درخواست کی تھی۔



