بین ریاستی خبریںجرائم و حادثات

دیوالی سے قبل گھر میں صف ِ ماتم بچھ گئی گھریلو تنازع سے دلبرداشتہ خاتون نے پھانسی لگا کر گنوائی جان

دہلی، 3نومبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دیوالی کی خوشی سے پہلے شمال مشرقی دہلی کے نیو عثمان پور علاقہ کے ایک گھر میں صف ِ ماتم بچھ گئی ۔ گھریلو جھگڑے سے دلبرداشتہ خاتون نے پھانسی لگا کر خودکشی کرلی۔ متوفی کی شناخت ریتو (26) کے طور پر کی گئی ہے۔ خاتون نے مرنے سے پہلے اپنی والدہ کو آخری بار فون کرکے ایسی بات کہی تھی کہ اس کی ماں کو احساس تک نہیں ہوا کہ وہ اپنی بیٹی سے آخری بار بات کر رہی ہے۔

ریتو نے خودکشی کرنے سے پہلے ایک سوسائڈ نوٹ بھی لکھا تھا جس کی وجہ سے پولیس کو بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔ریتو کی خودکشی کی اطلاع ملتے ہی ریتو کے گھر والے اس کے سسرال پہنچ گئے۔ لواحقین کی موجودگی میں پولیس نے اس کے کمرے کا دروازہ توڑا کر پنکھے سے لٹکی لاش اتاری ۔ پولیس نے متوفی کے پاس سے کوئی خودکشی نوٹ برآمد نہیں کیا ہے۔

لواحقین نے الزام لگایا ہے کہ سسرال والوں نے ریتو کا قتل کرنے کے بعد لاش کو لٹکا دیا ہے۔پولیس اور علاقائی ایس ڈی ایم معاملہ کی جانچ کر رہے ہیں۔ تحقیقات کے بعد کہا جا رہا ہے کہ حقائق کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔ پولیس کے مطابق ریتو اپنے خاندان کے ساتھ گلی نمبر 12 برہم پوری میں رہتی تھی۔

دسمبر 2017 کو اس کی شادی کرم ویر نامی نوجوان سے ہوئی تھی۔ اس وقت ان کی تین سالہ بیٹی اور ڈیڑھ سال کا بیٹا تھا۔ریتو نے پیر کی صبح تقریباً 11.00 بجے اپنے گھر میں پھانسی لگالی۔ شوہر نے فوراً موتی نگر میں اپنے گھر والوں کو اطلاع دی۔ اطلاع ملتے ہی اہل خانہ وہاں پہنچے، اس وقت پولیس بھی وہاں موجود تھی۔

ریتو کی بہن تانیہ نے بتایا کہ 10 بجے کے قریب اس کی بہن نے اس کی ماں کو فون کرکے بتایا کہ وہ زندگی سے پریشان ہے اور ہار چکی ہے۔ریتو نے روتے ہوئے فون بند کر دیا۔ اس کے بعد اس کے بہنوئی کرم ویر نے خاندان کو ریتو کی موت کی اطلاع دی۔

اہل خانہ کا الزام ہے کہ کرم ویر اور اس کے اہل خانہ ریتو کو بہت بری طرح سے مارتے تھے۔ وہ اس بات سے پریشان ہو گئی۔ پولیس اہل خانہ سے پوچھ گچھ کر کے معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button