بین ریاستی خبریں

مہاراشٹرا حکومت کا فرمان، ویکسین نہیں تو راشن کے لیے کرو انتظار :عوامی تحریک مومنٹ

ممبئی3نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مہاراشٹرا میں کوویڈ-19 کی وجہ سے جان و مال کا زبردست نقصان ہوا ہے۔ ریاستی حکومت مفاد عامہ میں کووڈ-19 ویکسی نیشن کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہی ہے اور لوگوں کو کووڈ-19 کی تباہی کو روکنے کے لیے ویکسین لینے کی ترغیب دے رہی ہے۔ ریاستی حکومت کا یہ ایک قابل ستائش قدم ہے۔

لیکن اب ویکسی نیشن کو فروغ دینے کے لیے حکومت کے کام کرنے کے انداز پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ درحقیقت، حکومت نے کووڈ ویکسی نیشن کے 100 فیصد ہدف کو حاصل کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنا شروع کر دیے ہیں۔ جس کی وجہ سے مہاراشٹر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا ہے۔

ریاست کے کئی اضلاع میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ذریعہ فرمان جاری کرکے فوڈ سیکورٹی ایکٹ کے تحت غریبوں کو ٹی پی ڈی ایس اسکیم کے تحت راشن کی تقسیم میں ویکسین لے چکے لوگوں اور ٹیکے نہ لگوانے والوں میں امتیاز برتنے کا حکم دیا گیا ہے،جس کی وجہ سے راشن ڈیلرز ان لوگوں کو راشن دینے سے انکار کر رہے ہیں، جنہوں نے ابھی تک ویکسین نہیں لی ہے۔

ڈیلرز کا کہنا ہے کہ انہیں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی طرف سے ہدایت دی گئی ہے کہ جن مستحقین نے کووڈ-19 ویکسین کی دونوں خوراکیں لی ہیں انہیں پہلے راشن دیا جائے، اسکے بعد راشن انھیں دیا جائے، جن لوگوں نے ویکسین کی پہلی خوراک لی ہے اور آخر میں انہیں راشن دیا جائے، جن کو ویکسین نہیں لگائی گئی ہے۔

اس امتیازی سلوک کی وجہ سے معاشرے کے کمزور طبقات کے لئے ایک نیا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔عوامی تحریک موومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس فار ویلفیر کے ریاستی صدر محمد سراج نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ غربت اور غذائیت کے مسائل سے دوچار بچے آج بھوکے ہیں کیا وہ بچے راشن کی تقسیم کی اپنی باری آنے تک بھوکے ہی رہیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ راشن کی فراہمی سے انکار نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ غیر اخلاقی اور غیر آئینی بھی ہے۔انتظامیہ کی طرف سے لوگوں کو جینے کے لئے ضروری راشن یا دیگر سرکاری فوائد سے محروم کرنے کی وجہ سے موجودہ خوراک، غذائیت اور خون کی کمی کا بحران مزید بڑھیگا۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (NFHS-5) میں ناقص غذائیت اور خون کی کمی کے شکار بچے صحت کے اعتبار سے بہت ہی سنگین حالات میں پائے گئے ہیں۔

تنظیم کے ممبئی ضلع صدر رمیش کدم نے میڈیا کو بتایا کہ نیشنل فوڈ سیکورٹی ایکٹ 2013 کے تحت ریاست میں عوامی تقسیم کے نظام کے ذریعے لوگوں کو راشن فراہم کیا جا رہا ہے۔ ایکٹ کے تحت، ریاستی حکومت ان خاندانوں کی شناخت کر سکتی ہے جو راشن کے اہل ہیں، لیکن ایکٹ کے تحت ٹیکہ کاری مستحقین کی شناخت کے لیے کوئی معیار نہیں ہے۔

مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی طرف سے کئی بار وضاحتیں کی جا چکی ہیں کہ آدھار سے منسلک نہ ہونے، تصدیقی نظام کے ساتھ نیٹ ورک/کنیکٹیویٹی کے مسائل، یا کسی اور تکنیکی مسائل کی وجہ سے قومی غذائی تحفظ قانون 2013کے تحت اناج کے حقدار کو راشن دینے سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔

غور طلب ہے کہ حال ہی میں منی پور ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ لوگوں کے روزگار کو ان کی ویکسی نیشن کی حیثیت سے جوڑ کر ان کی روزی روٹی سے محروم کرنا غیر قانونی ہے۔ اسی طرح کا فیصلہ میگھالیہ ہائی کورٹ نے بھی دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کو ٹیکہ لگانے پر مجبور کرنا بہبودکے بنیادی مقصدکے خلاف ہے۔

ایم پی جے کے ریاستی نائب صدر افسر عثمانی نے کہا کہ غریبوں کو راشن دینے سے انکار کرنا یا مؤخرکرنے سے بھوک کا مسئلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ راشن کے لیے اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے جھارکھنڈ کے سنتوشی کی طرح مہاراشٹر میں بھی غریب بچے بھات بھات کہتے ہوئے فوت ہو جائیں۔

راشن لینے والے معاشرے کے کمزور ترین لوگ ہوتے ہیں اور قانون انہیں خوراک کی سیکورٹی فراہم کرتا ہے۔ اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے ویکسی نیشن شرط نہیں ہے۔ پریس سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ، آپ کے ذریعے، ہم ریاستی حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ اس معاملے میں ایک عملی نقطہ نظر اختیارکیا جائے، تاکہ موجودہ بحران کے دوران کوئی بھی مستحق شخص غذائی اجناس تک رسائی سے محروم نہ رہے۔

ریاستی حکومت تمام متعلقہ حکام بشمول ضلع مجسٹریٹس کو ہدایت دے کہ وہ ایسے تمام احکامات کو واپس لیں، جو کووڈ-19 کی ویکسین نہ لینے کی وجہ سے لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button