ممبئی 3نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مہاراشٹرا حکومت کے وزیر اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) لیڈر نواب ملک نے اتوار کو ایک بار پھر ایک انکشاف کرنے کا دعویٰ کیاہے۔ لوگوں کو دیوالی کی مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے کہاہے کہ ہوٹل دی للت میں بہت سے راز پوشیدہ ہیں۔
ملک نے ماضی میں این سی بی کے زونل ڈائریکٹر سمیر وانکھیڑے پر کئی الزامات لگائے ہیں۔ افسر کے لباس سے لے کر ذات تک سوال اٹھائے ہیں۔نواب ملک نے آج ٹویٹ کیا اور کہاہے کہ دیوالی مبارک ہو۔ آپ سب کو دیوالی مبارک ہو۔ ہوٹل دی للت میں کئی راز پوشیدہ ہیں۔ اتوارکو ملیں گے۔
بات نکلے گی تو دور تلک جائے گی:نواب ملک نے اشاروں میں کیا حملہ
مہاراشٹر کے وزیر نواب ملک نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کے ایک افسر سمیر وانکھیڑے پر مسلسل الزام لگا رہے ہیں، جو آرین خان منشیات کیس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ انہوں نے منگل کو کہا کہ جب سے سمیر وانکھیڑے اس محکمہ میں آئے ہیں، وہ ایک پرائیویٹ آرمی لے کر آئے ہیں جس میں منیش بھانوشالی، سیم ڈی سوزا سمیت کئی لوگ ہیں، جو منشیات کا کاروبار بھی کرتے ہیں اور لوگوں کو پھنساتے ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ وانکھیڑے کے ذریعے کروڑوں روپئے کی وصولی ہوئی ہے۔ نواب ملک نے آج بھی ٹویٹ کیا ہے کہ ’بات نکلے گی تو دور تلک جائے گی‘، لوگ بلا وجہ مایوسی کی وجہ پوچھیں گے۔ صارفین اس پر خوب تبصرے کر رہے ہیں۔
اس تبصرے کے بارے میں یہ بھی قیاس کیا جا رہا ہے کہ وہ جلد ہی کوئی نیا انکشاف کر سکتے ہیں۔ کچھ صارفین نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ ایسے انکشافات کرتے رہیں جب کہ کچھ انہیں ٹرول کرتے بھی نظر آئے۔واضح رہے کہ اس سے قبل این سی پی لیڈر نواب ملک نے وانکھیڑے اورایک نامعلوم فون نمبر کی واٹس ایپ چیٹ کو شیئر کیا تھا۔
یہ چیٹ سے اشارہ ملتا ہے کہ وانکھیڑے نے بہن کا بزنس کارڈ اور دفتر کا لوکیشن شیئر کیا تھا۔ ملک نے الزام لگایاکہ جب سے سمیر وانکھیڑے اس محکمہ میں آئے ہیں، وہ ایک پرائیویٹ آرمی لے کر آئے ہیں، جس میں منیش بھانوشالی، سام ڈیسوزا سمیت کئی لوگ ہیں۔ منشیات کا کاروبار بھی کرتے ہیں، لوگوں کو پھنساتے بھی ہیں۔
میں کہتا رہا کہ وانکھیڑے کے ذریعے کروڑوں روپئے کی وصولی ہوئی ہے۔ جوپربھاکر سیل نے کہا کہ 18 کروڑ کی ڈیل ہوئی تھی، اب سام ڈیسوزا نے مان لی ہے، اب یہ منظر عام پر آ گئی ہے۔
سام کہہ رہے ہیں کہ این سی بی اس میں ملوث نہیں ہے، ہم نے تصاویر دیکھی ہیں کہ کرن گوساوی وانکھیڑے کے پیچھے کھڑے ہیں۔ یہ ساری جعلسازی وانکھیڑے نے کی تھی۔ ہر بار ستیہ میو جیتے کہہ کربھاگنے سے نہیں چلے گا۔ یہ دھوکہ دہی کا کھیل اب نہیں چلے گا۔



