قومی خبریں

اگر صحیح سمجھوتہ ہو جائے تو ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کیس کو ختم کیا جا سکتا ہے:سپریم کورٹ

نئی دہلی،04؍ نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل سے متعلق ایک معاملے میں اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ اعلیٰ ذاتوں کی جانب سے ایس سی اور ایس ٹی کے ساتھ ظلم ایک افسوسناک حقیقت ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر ایس سی-ایس ٹی ایکٹ کے تحت مجرم ٹھہرائے جانے سے پہلے متاثرہ اور ملزم کے درمیان کوئی معقول تصفیہ ہو جاتا ہے تو آئینی عدالتیں اس کیس کو منسوخ کر سکتی ہیں۔

ایک کیس کی سماعت کرتے ہوئے، چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا اور جسٹس سوریہ کانت اور ہیما کوہلی کی بنچ نے مجرم اور شکایت کنندہ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی بنیاد پر ایس سی-ایس ٹی (مظالم کی روک تھام) ایکٹ کے تحت 1994 کی سزا کو منسوخ کر دیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ ایکٹ اس مایوس کن حقیقت کا اعتراف ہے کہ کئی اقدامات کرنے کے باوجود ایس سی/ایس ٹی اعلیٰ ذاتوں کے ہاتھوں طرح طرح کے مظالم کا شکار ہو رہے ہیں۔

ایس سی؍ایس ٹی ایکٹ پر عدالت عظمیٰ کی بنچ نے مشاہدہ کیا کہ عام طور پر، ایس سی ؍ایس ٹی ایکٹ جیسے خصوصی قوانین سے پیدا ہونے والے جرائم سے نمٹتے وقت عدالت اپنے نقطہ نظر میں انتہائی محتاط رہے گی۔

سی جے آئی کی زیرقیادت بنچ نے کہاکہ جہاں عدالت کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جرم، حالانکہ ایس سی؍ایس ٹی ایکٹ کے تحت آتا ہے، بنیادی طور پر نجی یا شہری نوعیت کا ہے، یا جہاں جرم کی ذات کی بنیاد پر شکایت کی گئی ہے، یا جہاں قانونی کارروائی جاری رکھنا قانون کے عمل کے غلط استعمال کے مترادف ہوگا، عدالت کارروائی کو منسوخ کرنے کے لیے اپنے اختیارات استعمال کر سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button