نوجوت سدھو ’سیاسی فائدے‘ کے لیے پھیلا رہے ہیں جھوٹ پنجاب ایڈوکیٹ جنرل کا پی سی سی صدر پر حملہ
چندی گڑھ؍نئی دہلی ،06؍ نومبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پنجاب کے اعلیٰ قانون افسر یعنی ایڈوکیٹ جنرل اے پی ایس دیول نے ریاستی کانگریس کے صدر نوجوت سنگھ سدھو پر سیاسی فائدے کے لیے غلط معلومات پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔ ایک پریس بیان میں دیول نے الزام لگایا کہ سدھو ریاستی حکومت اور ایڈوکیٹ جنرل کے کام کاج میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔
نوجوت سنگھ سدھو 2015 کے پولیس فائرنگ اور توہین کے معاملے میں کیس کی نمائندگی کرنے پر دیول کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اے جی دیول نے’منشیات‘اور توہین کے معاملات میں بار بار بولنے پر سابق کرکٹر کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انہوں نے اس معاملے میں انصاف کو یقینی بنانے کے لیے ریاستی حکومت کی مخلصانہ کوششوں کو پٹری سے اتارنے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ سدھو اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے اپنے سیاسی حلیفوں میں غلط معلومات پھیلا رہے ہیں۔ ہفتہ کی صبح جاری کردہ ایک مختصر بیان میں دیول نے لکھاکہ پنجاب میں آنے والے انتخابات کے پیش نظر کانگریس پارٹی کے کام کاج کو خراب کرنے کے ذاتی مفادات کے ساتھ پنجاب کے ایڈوکیٹ جنرل کے آئینی دفتر کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ نوجوت سنگھ سدھو نے کل (جمعہ، 5 نومبر) پنجاب کانگریس کے سربراہ کے عہدے سے استعفیٰ واپس لے لیا تھا۔ انہوں نے ستمبر میں چنی حکومت میں بعض تقرریوں کے خلاف احتجاجاً عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اب انہوں نے پارٹی کو نیا الٹی میٹم دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جیسے ہی نئے ایڈووکیٹ جنرل کی تقرری ہوگی ، وہ اپنے دفتر میں واپس آجائیں گے، لیکن معاملہ پیچیدہ دکھائی دے رہا ہے۔ پنجاب کے وزیر اعلی چرنجیت سنگھ چنی نے مبینہ طور پر اے پی ایس دیول کا استعفیٰ مسترد کر دیا ہے، جن کی تقرری سے سدھو ناراض ہیں۔



