لکھنؤ،6نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کچھ دن پہلے ہردوئی پہنچے اکھلیش یادو جناح کے بیان سے زعفرانی لیڈران کے نشانے پر ہیں ۔ تاہم اکھلیش یادو اب بھی اپنے بیان پر قائم ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے بھائی دوج پر کہا، میں سیاق و سباق کی وضاحت کیوں کروں؟
میں چاہتا ہوں کہ لوگ دوبارہ تاریخ کی کتابیں پڑھیں۔ یوپی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کو 2022 میں اسمبلی انتخابات نہیں لڑنا چاہئے ،کیونکہ وہ اس بار ہارنے والے ہیں۔
قابل ذکرہے کہ ایس پی سربراہ نے اتوار کو ہردوئی میں ایک تقریر میں کہا تھا کہ سردار ولبھ بھائی پٹیل، مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو اور (محمد علی) جناح نے ایک ہی انسٹی ٹیوٹ سے تعلیم حاصل کی اور بیرسٹر بنے اور ہندوستان کی آزادی کی جنگ لڑی۔ آر ایس ایس کا نام لیے بغیرانہوں نے کہا کہ اگر کوئی نظریہ (آر ایس ایس کا) ہے جس پر پابندی لگائی گئی ہے تو وہ مردِ آہن سردار پٹیل تھے جنہوں نے پابندی لگائی تھی ۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج جو لوگ ملک کو متحد کرنے کی بات کر رہے ہیں، وہ آپ کو اور مجھے ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر تقسیم کر رہے ہیں۔وہیں جمعہ کو ایس پی کارکنوں نے ضلع ہیڈکوارٹر پر کلکٹریٹ احاطہ میں مظاہرہ کیا۔
وزیر مملکت کیخلاف نعرے بازی کرتے ہوئے انہوں نے ضلع انتظامیہ کو ان کیخلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے میمورنڈم پیش کیا۔ دوسری طرف ایس پی کے ضلع صدر راج منگل یادو نے انتباہ دیا ہے کہ اگر انتظامیہ شکلا کیخلاف مقدمہ درج نہیں کرتی ہے، تو ایس پی کارکن ریاستی وزیر کی سخت مخالفت کریں گے اور انہیں بلیا ضلع میں ہرگز داخل نہیں ہونے دیں گے۔



